MOJ E SUKHAN

مجھ سے تری زباں کا نہ طعنہ سہا گیا

مجھ سے تری زباں کا نہ طعنہ سہا گیا
اتنا تو میں برا نہیں جتنا کہا گیا

میں خوگرِ وفا ہی رہا تیرے پیار میں
تجھ سے مگر وفا پہ نہ قائم رہا گیا

رونا ہے اب یہ کیسا بھلا کیوں پکار ہے
جاتے ہوئے کیوں آنکھ سے موتی بہا گیا

مدت سے میری بات سے تجھ کو تھا اختلاف
کہتا ہے اب، کہ یار کوئی بے بہا گیا

تجھ کو بھی میرے ہجر نے جینے نہیں دیا
مجھ سے بھی تیرے بعد نہ یکسر رہا گیا

دونوں اداس ترک تعلق سے تھے مگر
یہ کاروانِ عمر سبھی کچھ بہا گیا

خاور کمال صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم