اک چاند چمکتا سرِ رخسار مرے دوست
صحرا میں ہو جیسے گل و گلزار مرے دوست
چھینے گئے سب خواب مری آنکھ سے لیکن
دنیا نہ ہوئی نیند سے بیدار مرے دوست
وحشت کی فراوانی بکھرتی ہے سڑک پر
بڑھ جاتی ہے جب سانس کی رفتار مرے دوست
آنکھوں کو بھی جلنے کی تمنا ہے ازل سے
لازم تو نہیں طور پہ دیدار مرے دوست
اک بار محبت سے تو تسنیم پکارے
سو بار کہوں میں مرے سرکار , مرے دوست
سیدہ تسنیم بخاری