MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

سبھی یہ پوچھتے رہتے ہیں کیا گم ہو گیا ہے

سبھی یہ پوچھتے رہتے ہیں کیا گم ہو گیا ہےبتا دوں؟ مجھ سے خود اپنا پتا گم ہو گیا ہے تمہارے دن میں اک روداد تھی جو کھو گئی ہےہماری رات میں اک خواب تھا، گم ہو گیا ہے وہ جس کے پیچ و خم میں داستاں لپٹی ہوئی تھیکہانی میں کہیں وہ ماجرا گم […]

سبھی یہ پوچھتے رہتے ہیں کیا گم ہو گیا ہے Read More »

راکھ کے ڈھیر پہ کیا شعلہ بیانی کرتے

راکھ کے ڈھیر پہ کیا شعلہ بیانی کرتےایک قصے کی بھلا کتنی کہانی کرتے حسن اتنا تھا کہ ممکن ہی نہ تھی خود نگریایک امکان کی کب تک نگرانی کرتے شعلۂ جاں کو بجھاتے یوں ہی قطرہ قطرہخود کو ہم آگ بناتے تجھے پانی کرتے پھول سا تجھ کو مہکتا ہوا رکھتے شب بھراپنے سانسوں

راکھ کے ڈھیر پہ کیا شعلہ بیانی کرتے Read More »

شکست خواب کا ہمیں ملال کیوں نہیں رہا

شکست خواب کا ہمیں ملال کیوں نہیں رہابچھڑ گئے تو پھر ترا خیال کیوں نہیں رہا اگر یہ عشق ہے تو پھر وہ شدتیں کہاں گئیںاگر یہ وصل ہے تو پھر محال کیوں نہیں رہا وہ زلف زلف رات کیوں بکھر بکھر کے رہ گئیوہ خواب خواب سلسلہ بحال کیوں نہیں رہا وہ سایہ جو

شکست خواب کا ہمیں ملال کیوں نہیں رہا Read More »

سخن کے شوق میں توہین حرف کی نہیں کی

سخن کے شوق میں توہین حرف کی نہیں کیکہ ہم نے داد کی خواہش میں شاعری نہیں کی جو خود پسند تھے ان سے سخن کیا کم کمجو کج کلاہ تھے ان سے تو بات بھی نہیں کی کبھی بھی ہم نے نہ کی کوئی بات مصلحتاًمنافقت کی حمایت، نہیں، کبھی نہیں کی دکھائی دیتا

سخن کے شوق میں توہین حرف کی نہیں کی Read More »

اداس بس عادتاً ہوں کچھ بھی ہوا نہیں ہے

اداس بس عادتاً ہوں کچھ بھی ہوا نہیں ہےیقین مانو کسی سے کوئی گلہ نہیں ہے ادھیڑ کر سی رہا ہوں برسوں سے اپنی پرتیںنتیجتاً ڈھونڈنے کو اب کچھ بچا نہیں ہے ذرا یہ دل کی امید دیکھو یقین دیکھومیں ایسے معصوم سے یہ کہہ دوں خدا نہیں ہے میں اپنی مٹی سے اپنے لوگوں

اداس بس عادتاً ہوں کچھ بھی ہوا نہیں ہے Read More »

وہ چراغ جاں کہ چراغ تھا کہیں رہ گزار میں بجھ گیا

وہ چراغ جاں کہ چراغ تھا کہیں رہ گزار میں بجھ گیامیں جو اک شعلہ نژاد تھا ہوس قرار میں بجھ گیا مجھے کیا خبر تھی تری جبیں کی وہ روشنی مرے دم سے تھیمیں عجیب سادہ مزاج تھا ترے اعتبار میں بجھ گیا مجھے رنج ہے کہ میں موسموں کی توقعات سے کم رہامری

وہ چراغ جاں کہ چراغ تھا کہیں رہ گزار میں بجھ گیا Read More »

یہ کیسے ملبے کے نیچے دبا دیا گیا ہوں

یہ کیسے ملبے کے نیچے دبا دیا گیا ہوںمجھے بدن سے نکالو میں تنگ آ گیا ہوں کسے دماغ ہے بے فیض صحبتوں کا میاںخبر اڑا دو کہ میں شہر سے چلا گیا ہوں مآل عشق انا گیر ہے یہ مختصراًمیں وہ درندہ ہوں جو خود کو ہی چبا گیا ہوں کوئی گھڑی ہے کہ

یہ کیسے ملبے کے نیچے دبا دیا گیا ہوں Read More »

یہ خبر ہے، مجھ میں کچھ میرے سوا موجود ہے

یہ خبر ہے، مجھ میں کچھ میرے سوا موجود ہےاب تو بس معلوم کرنا ہے کہ کیا موجود ہے ایک میں ہوں، جس کا ہونا ہو کے بھی ثابت نہیںایک وہ ہے جو نہ ہو کر جا بجا موجود ہے ہاں خدا ہے، اس میں کوئی شک کی گنجائش نہیںاس سے تم یہ مت سمجھ

یہ خبر ہے، مجھ میں کچھ میرے سوا موجود ہے Read More »

یہ اور بات کہ اس عہد کی نظر میں ہوں

یہ اور بات کہ اس عہد کی نظر میں ہوںابھی میں کیا کہ ابھی منزل ِ سفر میں ہوں ابھی نظر نہیں ایسی کہ دُور تک دیکھوںابھی خبر نہیں مجھ کو کہ کس اثر میں ہوں پگھل رہے ہیں جہاں لوگ شعلہء جاں سےشریک میں بھی اسی محفل ِ ہنر میں ہوں جو چاہے سجدہ

یہ اور بات کہ اس عہد کی نظر میں ہوں Read More »

مرے خدا مجھے وہ تابِ بے نوائی دے

مرے خدا مجھے وہ تابِ بے نوائی دےمَیں چپ رہوں بھی تو نغمہ مرا سنائی دے گدائے کوئے سخن اور تجھ سے کیا مانگےیہی کہ مملکتِ شعر کی خدائی دے نگاہِ دہر میں اہل ِ کمال ہم بھی ہوںجو لکھ رہے ہیں وہ دنیا اگر دکھائی دے چھلک نہ جاؤں کہیں میں وجُود سے اپنےہُنر

مرے خدا مجھے وہ تابِ بے نوائی دے Read More »