MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کون دیتا رہا صحرا میں صدا میری طرح

کون دیتا رہا صحرا میں صدا میری طرحآج تنہا ہوں مگر کوئی تو تھا میری طرح میں تری راہ میں پامال ہوا جاتا ہوںمٹ نہ جائے ترا نقش کف پا میری طرح میں ہی تنہا ہوں فقط تیری بھری دنیا میںاور بھی لوگ ہیں کیا میرے خدا میری طرح رنگ ارباب رضا پیشہ مبارک ہو […]

کون دیتا رہا صحرا میں صدا میری طرح Read More »

کوئی تو آ کے رلا دے کہ ہنس رہا ہوں میں

کوئی تو آ کے رلا دے کہ ہنس رہا ہوں میںبہت دنوں سے خوشی کو ترس رہا ہوں میں سحر کی اوس میں بھیگا ہوا بدن تیراوہ آنچ ہے کہ چمن میں جھلس رہا ہوں میں قدم قدم پہ بکھرتا چلا ہوں صحرا میںصدا کی طرح مکین جرس رہا ہوں میں کوئی یہ کہہ دے

کوئی تو آ کے رلا دے کہ ہنس رہا ہوں میں Read More »

میں تو چپ تھا مگر اس نے بھی سنانے نہ دیا

میں تو چپ تھا مگر اس نے بھی سنانے نہ دیاغم دنیا کا کوئی ذکر تک آنے نہ دیا اس کا زہرابۂ پیکر ہے مری رگ رگ میںاس کی یادوں نے مگر ہاتھ لگانے نہ دیا اس نے دوری کی بھی حد کھینچ رکھی ہے گویاکچھ خیالات سے آگے مجھے جانے نہ دیا بادباں اپنے

میں تو چپ تھا مگر اس نے بھی سنانے نہ دیا Read More »

نفس نفس ہے ترے غم سے چور چور اب تک

نفس نفس ہے ترے غم سے چور چور اب تکنہ شام ہے نہ سویرا قریب دور اب تک سنی سنائی پہ مت جا ذرا قریب تو آسزا نہ دے کہ محبت ہے بے قصور اب تک مچل رہی ہے کہیں جوئے شیر اے فرہادکلیم سن تو سہی جل رہا ہے طور اب تک مرے خدا

نفس نفس ہے ترے غم سے چور چور اب تک Read More »

سانسوں میں بسے ہو تم آنکھوں میں چھپا لوں گا

سانسوں میں بسے ہو تم آنکھوں میں چھپا لوں گاجب چاہوں تمہیں دیکھوں آئینہ بنا لوں گا یادوں سے کہو میری بالیں سے چلی جائیںاب اے شب تنہائی آرام ذرا لوں گا رنجش سے جدائی تک کیا سانحہ گزرا ہےکیا کیا مجھے دعویٰ تھا جب چاہوں منا لوں گا تصویر خیالی ہے ہر آنکھ سوالی

سانسوں میں بسے ہو تم آنکھوں میں چھپا لوں گا Read More »

سمٹ سمٹ سی گئی تھی زمیں کدھر جاتا

سمٹ سمٹ سی گئی تھی زمیں کدھر جاتامیں اس کو بھولتا جاتا ہوں ورنہ مر جاتا میں اپنی راکھ کریدوں تو تیری یاد آئےنہ آئی تیری صدا ورنہ میں بکھر جاتا تری خوشی نے مرا حوصلہ نہیں دیکھاارے میں اپنی محبت سے بھی مکر جاتا کل اس کے ساتھ ہی سب راستے روانہ ہوئےمیں آج

سمٹ سمٹ سی گئی تھی زمیں کدھر جاتا Read More »

تری نظر سبب تشنگی نہ بن جائے

تری نظر سبب تشنگی نہ بن جائےکہیں شراب مری زندگی نہ بن جائے کبھی کبھی تو اندھیرا بھی خوبصورت ہےترا خیال کہیں روشنی نہ بن جائے بھڑک نہ جائے کہیں شمع علم و دانش بھیجنوں جنوں ہی رہے آگہی نہ بن جائے میں ڈر رہا ہوں کہاں تیرا سامنا ہوگاترا وجود ہی میری کمی نہ

تری نظر سبب تشنگی نہ بن جائے Read More »

وہ گداگران جلوہ سر رہ گزار چپ تھے

وہ گداگران جلوہ سر رہ گزار چپ تھےجنہیں تجھ سے تھیں امیدیں وہ امیدوار چپ تھے وہ قطار گمرہاں تھی لئے مشعلیں رواں تھیوہ جو منزل آشنا تھے وہ پس غبار چپ تھے یہ عجیب سانحہ تھا جسے چشم گل نے دیکھاکہ طیور دام دیدہ سر شاخسار چپ تھے کسے جرأت تسلی کہ وہ بات

وہ گداگران جلوہ سر رہ گزار چپ تھے Read More »

وہ نیاز و ناز کے مرحلے نگہ و سخن سے چلے گئے

وہ نیاز و ناز کے مرحلے نگہ و سخن سے چلے گئےترے رنگ و بو کے وہ قافلے ترے پیرہن سے چلے گئے کوئی آس ہے نہ ہراس ہے شب ماہ کتنی اداس ہےوہ جو رنگ رنگ کے عکس تھے وہ کرن کرن سے چلے گئے کوئی ان کی آنکھیں سراہتا کوئی وحشتوں سے نباہتاکہ

وہ نیاز و ناز کے مرحلے نگہ و سخن سے چلے گئے Read More »

ذرا سی بات تھی بات آ گئی جدائی تک

ذرا سی بات تھی بات آ گئی جدائی تکہنسی نے چھوڑ دیا لا کے جگ ہنسائی تک بھلے سے اب کوئی تیری بھلائی گنوائےکہ میں نے چاہا تھا تجھ کو تری برائی تک تو چپکے چپکے مروت سے کیوں بچھڑتا ہےمرا غرور بھی تھا تیری کج ادائی تک مجھے تو اپنی ندامت کی داد بھی

ذرا سی بات تھی بات آ گئی جدائی تک Read More »