MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

راکھ کے ڈھیر پہ کیا شعلہ بیانی کرتے

راکھ کے ڈھیر پہ کیا شعلہ بیانی کرتے
ایک قصے کی بھلا کتنی کہانی کرتے

حسن اتنا تھا کہ ممکن ہی نہ تھی خود نگری
ایک امکان کی کب تک نگرانی کرتے

شعلۂ جاں کو بجھاتے یوں ہی قطرہ قطرہ
خود کو ہم آگ بناتے تجھے پانی کرتے

پھول سا تجھ کو مہکتا ہوا رکھتے شب بھر
اپنے سانسوں سے تجھے رات کی رانی کرتے

ندیاں دیکھیں تو بس شرم سے پانی ہو جائیں
چشم خوں بستہ سے پیدا وہ روانی کرتے

سب سے کہتے کہ یہ قصہ ہے پرانا صاحب
آہ کی آنچ سے تصویر پرانی کرتے

در و دیوار بدلنے میں کہاں کی مشکل
گھر جو ہوتا تو بھلا نقل مکانی کرتے

کوئی آ جاتا کبھی یوں ہی اگر دل کے قریب
ہم ترا ذکر پئے یاد دہانی کرتے

سچ تو یہ ہے کہ ترے ہجر کا اب رنج نہیں
کیا دکھاوے کے لیے اشک فشانی کرتے

دل کو ہر لحظہ ہی دی عقل پہ ہم نے ترجیح
یار جانی کو کہاں دشمن جانی کرتے

شب اسی طرح بسر ہوتی ہے میری عرفانؔ
حرف خوش رنگ کو اندوہ معانی کرتے

عرفان ستار

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم