MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کون دیتا رہا صحرا میں صدا میری طرح

کون دیتا رہا صحرا میں صدا میری طرح
آج تنہا ہوں مگر کوئی تو تھا میری طرح

میں تری راہ میں پامال ہوا جاتا ہوں
مٹ نہ جائے ترا نقش کف پا میری طرح

میں ہی تنہا ہوں فقط تیری بھری دنیا میں
اور بھی لوگ ہیں کیا میرے خدا میری طرح

رنگ ارباب رضا پیشہ مبارک ہو تجھے
کوئی ہوتا ہی نہیں تجھ سے خفا میری طرح

کس کو حاصل ہو تری چشم سیہ کے آگے
منصب سلسلۂ جرم و خطا میری طرح

آشنا کون ہے نقش قدم نکہت کا
یاد کس کو ہے ترے گھر کا پتا میری طرح

شاذؔ تارا نہیں ٹوٹا کوئی دل ٹوٹا ہے
راہ تکتا تھا شب غم کوئی کیا میری طرح

شاذ تمکنت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم