MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

سکوں پایا طبیعت نے نہ دل کو ہی قرار آیا

سکوں پایا طبیعت نے نہ دل کو ہی قرار آیاجو آنسو آنکھ میں آیا بڑا بے اعتبار آیا کسی کا بانکپن سارے زمانے میں پکار آیاچمک آنکھوں میں آئی نوک مژگاں پر نکھار آیا مقدر اپنا اپنا ہے گل‌ و شبنم کی وادی میںکوئی ہنستا ہوا آیا تو کوئی اشک بار آیا مجھے کیا واسطہ […]

سکوں پایا طبیعت نے نہ دل کو ہی قرار آیا Read More »

زندگی موت کے آغوش سے پیدا کرنا

زندگی موت کے آغوش سے پیدا کرناڈوب کر بحر میں طوفان سے کھیلا کرنا آئے رونا بھی تو ہنسنے کا ارادہ کرناجوش غم میں نہ کبھی ضبط سے گزرا کرنا دیکھنا شوق کی فطرت کو نہ رسوا کرناچشم مشتاق یونہی ان کا نظارہ کرنا رنگ لائے گا عجب جلوہ‌ گہہ محشر میںذوق‌ دیدار مرا آپ

زندگی موت کے آغوش سے پیدا کرنا Read More »

زمیں کی خاک تو افلاک سے زیادہ ہے

زمیں کی خاک تو افلاک سے زیادہ ہےیہ بات پر ترے ادراک سے زیادہ ہے یہ آفتاب اسے دھوپ میں جلا دے گاجو چھاؤں پیڑ کی پوشاک سے زیادہ ہے خیال آتا ہے اکثر اتار پھینکوں بدنکہ یہ لباس مری خاک سے زیادہ ہے چھلک اٹھا ہوں اگر ساری کائنات سے میںتو کیا یہ خاک

زمیں کی خاک تو افلاک سے زیادہ ہے Read More »

اب سوچئے تو دام تمنا میں آ گئے

اب سوچئے تو دام تمنا میں آ گئےدیوار و در کو چھوڑ کے صحرا میں آ گئے تصویر تھے جو اولیں سرشاریوں میں لوگوہ زخم بن کے چشم تمنا میں آ گئے ان سے بھی پوچھئے کبھی اپنی زمیں کا کربجو ساحلوں کو چھوڑ کے دریا میں آ گئے وحشت نے یوں تو خوب دیا

اب سوچئے تو دام تمنا میں آ گئے Read More »

ایسا علاج حبس دل زار چاہئے

ایسا علاج حبس دل زار چاہئےاک در فصیل جاں میں ہوا دار چاہئے اک جھیل نغمہ ریز ہو اہل سفر کے ساتھسر سبز دور تک صف اشجار چاہئے صحرا کف تموج دریا میں ہو اسیرشعلہ ہوا سے بر سر پیکار چاہئے یہ روح ایک طائر وحشی نژاد ہےہر دم سفر کے واسطے تیار چاہئے اپنے

ایسا علاج حبس دل زار چاہئے Read More »

ایسی بھی کہاں بے سر و سامانی ہوئی ہے

ایسی بھی کہاں بے سر و سامانی ہوئی ہےجو سب کو مجھے دیکھ کے حیرانی ہوئی ہے دل میں تو تری یاد تھی اک بوند لہو کیآنکھوں میں جو آئی تو یہی پانی ہوئی ہے قلزم کا ہے اعزاز کہ تہہ داری کی ہر موجاس زلف گرہ گیر کی دیوانی ہوئی ہے کیا ڈھونڈنے نکلی

ایسی بھی کہاں بے سر و سامانی ہوئی ہے Read More »

دستک ہوا کی سن کے کبھی ڈر نہیں گیا

دستک ہوا کی سن کے کبھی ڈر نہیں گیالیکن میں چاند رات میں باہر نہیں گیا آنکھوں میں اڑ رہا ہے ابھی تک غبار ہجراب تک وداع یار کا منظر نہیں گیا اے شام ہجر یار مری تو گواہی دےمیں تیرے ساتھ ساتھ رہا گھر نہیں گیا تو نے بھی سارے زخم کسی طور سہ

دستک ہوا کی سن کے کبھی ڈر نہیں گیا Read More »

فتنہ اٹھا تو رزم گہہ خاک سے اٹھا

فتنہ اٹھا تو رزم گہہ خاک سے اٹھاسورج کسی کے پیرہن چاک سے اٹھا یہ دل اٹھا رہا ہے بڑے حوصلے کے ساتھوہ بار جو زمیں سے نہ افلاک سے اٹھا سب معجزوں کے باب میں یہ معجزہ بھی ہوجو لوگ مر گئے ہیں انہیں خاک سے اٹھا سورج کی ضو چراغ شکستہ کی لو

فتنہ اٹھا تو رزم گہہ خاک سے اٹھا Read More »

عشق میں ہو کے مبتلا دل نے کمال کر دیا

عشق میں ہو کے مبتلا دل نے کمال کر دیایوں ہی سی ایک شکل کو زہرہ جمال کر دیا ہم کو تمہاری بزم سے اٹھنے کا کچھ قلق نہیںجیسا خیال ہو سکا ویسا خیال کر دیا سیل روان عمر کے آگے ٹھہر سکا نہ کچھوقت نے مہر حسن کو رو بہ زوال کر دیا ایک

عشق میں ہو کے مبتلا دل نے کمال کر دیا Read More »

اسی لیے تو ہار کا ہوا نہیں ملال تک

اسی لیے تو ہار کا ہوا نہیں ملال تکوہ میرے ساتھ ساتھ تھا عروج سے زوال تک نہیں ہے سہل اس قدر کہ جی سکے ہر ایک شخصبلائے ہجر کی رتوں سے موسم وصال تک ہماری کشت آرزو یہ دھوپ کیا جلائے گیتمہارا انتظار ہم کریں گے برشگال تک عمیق زخم اس قدر بہ دست

اسی لیے تو ہار کا ہوا نہیں ملال تک Read More »