MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کسے خبر کہ ہے کیا کیا یہ جان تھامے ہوئے

کسے خبر کہ ہے کیا کیا یہ جان تھامے ہوئےزمین تھامے ہوئے آسمان تھامے ہوئے فضائیں کچھ بھی نہیں ہیں فقط نظر کا فریبکھڑا ہوا ہے کوئی آسمان تھامے ہوئے سفینہ موجۂ سیل بلا سے گرم ستیزہوا کا بار گراں بادبان تھامے ہوئے گرا ہے کوئی جری اے فصیل شہر تباہمزاحمت کا دریدہ نشان تھامے […]

کسے خبر کہ ہے کیا کیا یہ جان تھامے ہوئے Read More »

میں تو سویا بھی نہ تھا کیوں یہ در خواب گرا

میں تو سویا بھی نہ تھا کیوں یہ در خواب گرامیری آغوش میں بجھتا ہوا مہتاب گرا پھر سمندر کی طرف لوٹ چلی موج بہ موجپھر کوئی تشنہ دہن آ کے سر آب گرا عکس مسمار نہ کر دیدۂ حیراں کے سرشکمیرے خوابوں کے در و بام نہ سیلاب گرا ڈھونڈ سیپی کی طرح دل

میں تو سویا بھی نہ تھا کیوں یہ در خواب گرا Read More »

قریۂ انتظار میں عمر گنوا کے آئے ہیں

قریۂ انتظار میں عمر گنوا کے آئے ہیںخاک بہ سر اس دشت میں خاک اڑا کے آئے ہیں یاد ہے تیغ بے رخی یاد ہے ناوک ستمبزم سے تیری اہل دل رنج اٹھا کے آئے ہیں جرم تھی سیر گلستاں جرم تھا جلوہ ہائے گلجبر کے باوجود ہم گشت لگا کے آئے ہیں پہلے بھی

قریۂ انتظار میں عمر گنوا کے آئے ہیں Read More »

اکبر معصوم بے ساختہ شاعر

Akbar Masoom bay sakhta shair ہر انسان کی دنیاوی زندگی کے سفر کی ایک حد ہے جبکہ دائمی زندگی لامحدود۔ بہت عجیب سا احساس ہوتا ہے جب ہم کسی بھی شخص کے انتقال کی خبر سنتے ہیں،بتاتے ہیں۔انسان جب پیدا ہوتا ہے تو خوشی کاباعث بنتا ہے اور جب وہ دنیا سے رخصت ہوتا ہے

اکبر معصوم بے ساختہ شاعر Read More »

اب بھی اکثر دھیان تمہارا آتا ہے

اب بھی اکثر دھیان تمہارا آتا ہےدیکھو گزرا وقت دوبارہ آتا ہے آہ نہیں آتی ہے اب تو ہونٹوں تکسینے سے بس اک انگارہ آتا ہے جانے کس دنیا میں سوتی جاگتی ہیںجن آنکھوں سے خواب ہمارا آتا ہے دن بھر جنگل کی آوازیں آتی ہیںرات کو گھر میں جنگل سارا آتا ہے جن راتوں

اب بھی اکثر دھیان تمہارا آتا ہے Read More »

ایسا ایک مقام ہو جس میں دل جیسی ویرانی ہو

ایسا ایک مقام ہو جس میں دل جیسی ویرانی ہویادوں جیسی تیز ہوا ہو درد سے گہرا پانی ہو ایک ستارہ روشن ہو جو کبھی نہ بجھنے والا ہورستہ جانا پہچانا ہو رات بہت انجانی ہو وہ اک پل جو بیت گیا اس میں ہی رہیں تو اچھا ہےکیا معلوم جو پل آئے وہ فانی

ایسا ایک مقام ہو جس میں دل جیسی ویرانی ہو Read More »

خود سے نکلوں بھی تو رستہ نہیں آسان مرا

خود سے نکلوں بھی تو رستہ نہیں آسان مرامیری سوچیں ہیں گھنی خوف ہے گنجان مرا ہے کسی اور سمے پر گزر اوقات مریدن خسارہ ہے مجھے رات ہے نقصان مرا میرا تہذیب و تمدن ہے یہ وحشت میریمیرا قصہ، مری تاریخ ہے نسیان مرا میں کسی اور ہی عالم کا مکیں ہوں پیارےمیرے جنگل

خود سے نکلوں بھی تو رستہ نہیں آسان مرا Read More »

خواب آرام نہیں خواب پریشانی ہے

خواب آرام نہیں خواب پریشانی ہےمیرے بستر میں اذیت کی فراوانی ہے مجھ کو تو وہ بھی ہے معلوم جو معلوم نہیںیہ سمجھ بوجھ نہیں ہے مری نادانی ہے کچھ اسے سوچنے دیتا ہی نہیں اپنے سوامیرا محبوب تو میرے لیے زندانی ہے ہے مصیبت میں گرفتار مصیبت میریجو بھی مشکل ہے وہ میرے لیے

خواب آرام نہیں خواب پریشانی ہے Read More »

نہ اپنا نام نہ چہرہ بدل کے آیا ہوں

نہ اپنا نام نہ چہرہ بدل کے آیا ہوںکہ اب کی بار میں رستہ بدل کے آیا ہوں وہ اور ہوں گے جو کار ہوس پہ زندہ ہیںمیں اس کی دھوپ سے سایہ بدل کے آیا ہوں ذرا بھی فرق نہ پڑتا مکاں بدلنے سےوہ بام و در وہ دریچہ بدل کے آیا ہوں مجھے

نہ اپنا نام نہ چہرہ بدل کے آیا ہوں Read More »

نیند میں گنگنا رہا ہوں میں

نیند میں گنگنا رہا ہوں میںخواب کی دھن بنا رہا ہوں میں ایک مدت سے باغ دنیا کااپنے دل میں لگا رہا ہوں میں کیا بتاؤں تمہیں وہ شہر تھا کیاجس کی آب و ہوا رہا ہوں میں اب تجھے میرا نام یاد نہیںجب کہ تیرا پتا رہا ہوں میں آج کل تو کسی سدا

نیند میں گنگنا رہا ہوں میں Read More »