کسے خبر کہ ہے کیا کیا یہ جان تھامے ہوئے
کسے خبر کہ ہے کیا کیا یہ جان تھامے ہوئےزمین تھامے ہوئے آسمان تھامے ہوئے فضائیں کچھ بھی نہیں ہیں فقط نظر کا فریبکھڑا ہوا ہے کوئی آسمان تھامے ہوئے سفینہ موجۂ سیل بلا سے گرم ستیزہوا کا بار گراں بادبان تھامے ہوئے گرا ہے کوئی جری اے فصیل شہر تباہمزاحمت کا دریدہ نشان تھامے […]
کسے خبر کہ ہے کیا کیا یہ جان تھامے ہوئے Read More »