MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

بیگماتِ اودھ کے خطوط

مفتی انتظام اللہ شہابی اکبر آبادی شیدا بیگم کا خط بنام جان عالم شہ ہند رشک قمر جان عالمسفر سے جلد آؤ جان عالم کر اب مہر کی اک نظر جان عالمجمال اپنا دکھاؤ جان عالم شمع شبستان موانست و موافقت، رنگ افزاے اورنگ مصادقت و مرافقت، نغمہ سنج ریاض خوش بیان زمزمہ پرداز حدیقۂ […]

بیگماتِ اودھ کے خطوط Read More »

غم ہائے محبت کا اثر دیکھ رہا ہوں

غم ہائے محبت کا اثر دیکھ رہا ہوںبکھرے ہوئے دامن پہ گہر دیکھ رہا ہوں اے حسن رخ یار جدھر دیکھ رہا ہوںاک حسب تخیل و نظر دیکھ رہا ہوں اک نور کی دنیا ہے مری شوق کی منزلہر ذرے کو خورشید‌ نظر دیکھ رہا ہوں تم اور ابھی حسن کے پردوں کو اٹھاؤمیں آج

غم ہائے محبت کا اثر دیکھ رہا ہوں Read More »

جھوم کے ساغر کون اٹھائے کس کو پڑی میخانے کی

جھوم کے ساغر کون اٹھائے کس کو پڑی میخانے کیگلشن گلشن یوں پھرتی ہے چاک گریباں پھول کی خوشبو ساقی کو بھی ہوش نہیں ہے قسمت ہے پیمانے کیجیسے صبا نے پھیلا دی ہو بات کسی دیوانے کی دیوانے پن کی گھاٹی میں عقل کا سورج ڈوب چلاشہر تخیل پر چھائی ہے شام کسی ویرانے

جھوم کے ساغر کون اٹھائے کس کو پڑی میخانے کی Read More »

خامشی ہی خامشی میں داستاں بنتا گیا

خامشی ہی خامشی میں داستاں بنتا گیامیرا ہر آنسو مرے غم کی زباں بنتا گیا آپ کا غم جب شریک قلب و جاں بنتا گیااشک کا ہر قطرہ بحر بیکراں بنتا گیا ظلم ٹوٹا ہی کیے قائم رہی شان عملبجلیاں گرتی رہیں اور آشیاں بنتا گیا دھیرے دھیرے یاد ان کی دل میں گھر کرتی

خامشی ہی خامشی میں داستاں بنتا گیا Read More »

کی احتیاط دل نے بہت پر کہا گیا

کی احتیاط دل نے بہت پر کہا گیاچھوڑی جو ان کی راہ تو در در کہا گیا ساقی نے میرے نام پہ ساغر پٹک دیاتشنہ لبی کو میرا مقدر کہا گیا ہر چشم التفات کے حسن نگاہ کوآئینۂ خلوص کا جوہر کہا گیا احساس حسن ظرف سے ملتی ہے آبروپانی کی ایک بوند کو گوہر

کی احتیاط دل نے بہت پر کہا گیا Read More »

پھول کھلتے ہی اگر پاؤں میں چھالے ہوں گے

پھول کھلتے ہی اگر پاؤں میں چھالے ہوں گےاے جنوں دشت نوردی کے بھی لالے ہوں گے ان پہ ہو جائیں گے تعمیر حقیقت کے محلہم نے جو خواب کبھی ذہن میں پالے ہوں گے بندگی میری ترے در کی جبیں سائی ہےمیرے سجدے ترے قدموں کے حوالے ہوں گے مسکراتا ہے ہر اک زخم

پھول کھلتے ہی اگر پاؤں میں چھالے ہوں گے Read More »

صحرا میں جو دیوانے سے باد صبا الجھی

صحرا میں جو دیوانے سے باد صبا الجھیہر موج گل تر سے وہ زلف دوتا الجھی الزام نہیں تجھ پر اے بادیہ پیمائیدیوانے کی قسمت سے صحرا کی ہوا الجھی پابند‌ نزاکت تھی نیرنگئ گل چینیسرخئ‌ گل تر سے ہاتھوں کی حنا الجھی یا حسن کشش میں جاں اور آپ نے ڈالی ہےیا شوخئ فطرت

صحرا میں جو دیوانے سے باد صبا الجھی Read More »

سنبھل کر آہ بھرنا اے اسیر دام تنہائی

سنبھل کر آہ بھرنا اے اسیر دام تنہائیکہیں ہاتھوں سے چھٹ جائے نہ دامان شکیبائی عجب انداز رکھتی ہے ادائے‌ دشت پیمائیکہ خود ہی خار بڑھ کر چومتے ہیں پائے‌ سودائی جو رنگ حسن خاموشی ہے وہ کھوتی ہے گویائیہوا جب لب کشا غنچہ تو باہر بو نکل آئی ابھی تو بس تصور ہے تمہارے

سنبھل کر آہ بھرنا اے اسیر دام تنہائی Read More »

سواد منظر خواب پریشاں کون دیکھے گا

سواد منظر خواب پریشاں کون دیکھے گااسیر زلف ہو کر شام ہجراں کون دیکھے گا گلوں کی دل کشی فصل بہاراں کون دیکھے گانہ ہوں گے جب ہمیں رنگ گلستاں کون دیکھے گا شب غم تم نہ آئے غم نہیں غم ہے تو یہ غم ہےمرے دامن پہ اشکوں کا چراغاں کون دیکھے گا گداز

سواد منظر خواب پریشاں کون دیکھے گا Read More »

سوئے ہوئے ذہنوں میں نادیدہ سویرا ہے

سوئے ہوئے ذہنوں میں نادیدہ سویرا ہےسورج کے بھی اگنے پر ہر سمت اندھیرا ہے افسردہ دلوں میں بھی ارمانوں کا ڈیرا ہےسوکھی ہوئی شاخوں پر چڑیوں کا بسیرا ہے میں صاف طبیعت ہوں کچھ دل میں نہیں رکھتاکیا سوچ کے منہ تم نے آئینے سے پھیرا ہے جائیں تو کدھر جائیں بہکے ہوئے منزل

سوئے ہوئے ذہنوں میں نادیدہ سویرا ہے Read More »