MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کسے خبر کہ ہے کیا کیا یہ جان تھامے ہوئے

کسے خبر کہ ہے کیا کیا یہ جان تھامے ہوئے
زمین تھامے ہوئے آسمان تھامے ہوئے

فضائیں کچھ بھی نہیں ہیں فقط نظر کا فریب
کھڑا ہوا ہے کوئی آسمان تھامے ہوئے

سفینہ موجۂ سیل بلا سے گرم ستیز
ہوا کا بار گراں بادبان تھامے ہوئے

گرا ہے کوئی جری اے فصیل شہر تباہ
مزاحمت کا دریدہ نشان تھامے ہوئے

سڑک کے پار چلا جا رہا ہے بچتا ہوا
کسی کا ہاتھ کوئی مہربان تھامے ہوئے

عجب طلسم سا منظر ہے بھیگتی ہوئی شام
کوئی پری ہے دھنک کی کمان تھامے ہوئے

عظیم حیدر سید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم