MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

سن! ہجر اور وصال کا جادو کہاں گیا

سن! ہجر اور وصال کا جادو کہاں گیامیں تو کہیں نہیں تھا مگر تو کہاں گیا جب خیمۂ خیال میں تصویر ہے وہیوہ دشت نا مراد وہ آہو کہاں گیا بستر پہ گر رہی ہے سیہ آسماں سے راکھوہ چاندنی کہاں ہے وہ مہ رو کہاں گیا جس کے بغیر جی نہیں سکتے تھے جا […]

سن! ہجر اور وصال کا جادو کہاں گیا Read More »

اس خوش ادا کے آئنہ خانے میں جاؤں گا

اس خوش ادا کے آئنہ خانے میں جاؤں گاپھر لوٹ کر میں اپنے زمانے میں جاؤں گا رہ جائے گی یہ ساری کہانی یہیں دھریاک روز جب میں اپنے فسانے میں جاؤں گا یہ صبح و شام یوں ہی رہیں گے مرے چراغبس میں تجھے جلانے بجھانے میں جاؤں گا یہ کھیل ہے تو خوب

اس خوش ادا کے آئنہ خانے میں جاؤں گا Read More »

یہ گل جس خاک سے لایا گیا ہے

یہ گل جس خاک سے لایا گیا ہےاسے افلاک سے لایا گیا ہے چمن پہ رنگ آتا ہی نہیں تھاتری پوشاک سے لایا گیا ہے یہ دل جس سے میں شرمندہ بہت ہوںاسی بے باک سے لایا گیا ہے اجالا ہے جو یہ کون و مکاں میںہماری خاک سے لایا گیا ہے یہ جو کچھ

یہ گل جس خاک سے لایا گیا ہے Read More »

یہ جو اک شاخ ہے ہری تھی ابھی

یہ جو اک شاخ ہے ہری تھی ابھیاس جگہ پر کوئی پری تھی ابھی سربسر رنگ و نور سے لبریزاک صراحی یہاں دھری تھی ابھی خاک کیسی ہے میرے پاؤں تلےسات رنگوں کی اک دری تھی ابھی اس خرابے میں کوئی اور بھی ہےآہ کس نے یہاں بھری تھی ابھی سانحہ کوئی یاں سے گزرا

یہ جو اک شاخ ہے ہری تھی ابھی Read More »

یہ سارے پھول یہ پتھر اسی سے ملتے ہیں

یہ سارے پھول یہ پتھر اسی سے ملتے ہیںتو اے عزیز ہم اکثر اسی سے ملتے ہیں خدا گواہ کہ ان میں وہی ہلاکت ہےیہ تیغ و تیر یہ خنجر اسی سے ملتے ہیں وہ ایک بار نہیں ہے ہزار بار ہے وہسو ہم اسی سے بچھڑ کر اسی سے ملتے ہیں بچھا ہوا ہے

یہ سارے پھول یہ پتھر اسی سے ملتے ہیں Read More »

یہ ساری دھول مری ہے یہ سب غبار مرا

یہ ساری دھول مری ہے یہ سب غبار مراگزر ہے تیرے خرابے سے بار بار مرا خزاں تو کیا نہیں جس کی بہار کو بھی خبراک ایسے باغ کے اندر ہے برگ و بار مرا ہے دل کے نغمہ و نالہ سے اب گریز مجھےملا ہوا ہے کسی اور لے سے تار مرا میں خوش

یہ ساری دھول مری ہے یہ سب غبار مرا Read More »

کسی طرح دن تو کٹ رہے ہیں فریب امید کھا رہا ہوں

کسی طرح دن تو کٹ رہے ہیں فریب امید کھا رہا ہوںہزارہا نقش آرزو کے بنا رہا ہوں مٹا رہا ہوں وفا مری معتبر ہے کتنی جفا وہ کر سکتے ہیں کہاں تکجو وہ مجھے آزما رہے ہیں تو میں انہیں آزما رہا ہوں کسی کی محفل کا نغمۂ نے محرک نالہ و فغاں ہےفسانۂ

کسی طرح دن تو کٹ رہے ہیں فریب امید کھا رہا ہوں Read More »

لطف نہاں سے جب جب وہ مسکرا دئیے ہیں

لطف نہاں سے جب جب وہ مسکرا دئیے ہیںمیں نے بھی زخم دل کے ان کو دکھا دئیے ہیں کچھ حرف آرزو تھا کچھ یاد عیش رفتہجتنے تھے نقش دل میں ہم نے مٹا دیئے ہیں فرط غم و الم سے جب دل ہوا ہے گریاںاس نے عنایتوں کے دریا بہا دیئے ہیں دیکھے ہیں

لطف نہاں سے جب جب وہ مسکرا دئیے ہیں Read More »

نہیں ممکن لب عاشق سے حرف مدعا نکلے

نہیں ممکن لب عاشق سے حرف مدعا نکلےجسے تم نے کیا خاموش اس سے کیا صدا نکلے قیامت اک بپا ہے سینۂ مجروح الفت میںنہ تیر دلنشیں نکلے نہ جان مبتلا نکلے تمہارے خوگر بیداد کو کیا لطف کی حاجتوفا ایسی نہ کرنا تم جو آخر کو جفا نکلے گماں تھا کام دل اغیار تم

نہیں ممکن لب عاشق سے حرف مدعا نکلے Read More »

شوق پھر کوچۂ جاناں کا ستاتا ہے مجھے

شوق پھر کوچۂ جاناں کا ستاتا ہے مجھےمیں کہاں جاتا ہوں کوئی لیے جاتا ہے مجھے جلوہ کس آئینہ رو کا ہے نگاہوں میں کہ پھردل حیرت زدہ آئینہ بناتا ہے مجھے عاشقی شیوہ لڑکپن سے ہے اپنا ناصحکیا کروں میں کہ یہی کام کچھ آتا ہے مجھے لطف کر لطف کہ پھر مجھ کو

شوق پھر کوچۂ جاناں کا ستاتا ہے مجھے Read More »