MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

قریۂ انتظار میں عمر گنوا کے آئے ہیں

قریۂ انتظار میں عمر گنوا کے آئے ہیں
خاک بہ سر اس دشت میں خاک اڑا کے آئے ہیں

یاد ہے تیغ بے رخی یاد ہے ناوک ستم
بزم سے تیری اہل دل رنج اٹھا کے آئے ہیں

جرم تھی سیر گلستاں جرم تھا جلوہ ہائے گل
جبر کے باوجود ہم گشت لگا کے آئے ہیں

پہلے بھی سر بہت کٹے پہلے بھی خوں بہت بہا
اب کے مگر عذاب کے دور بلا کے آئے ہیں

رات کا کوئی پہر ہے تیز ہوا کا قہر ہے
خوف زدہ دلوں میں سب حرف دعا کے آئے ہیں

عظیم حیدر سید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم