MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

فَصیلِ شَہر سے باہر بُلا کے مارا گیا

فَصیلِ شَہر سے باہر بُلا کے مارا گیاسَبھی کے سامنے عِبرت بَنا کے مارا گیا مِرے خلاف گواہی تھی میرے بھائی کیاِسی لیے تو عَدالت میں لا کے مارا گیا یہ حُکم تھا کہ مجھےِ آگ پر ہی چَلنا ہےمیں بے گناہ تھا پھِر بھی جَلا کے مارا گیا کِسی کو حوصلہ ہی کَب تھا […]

فَصیلِ شَہر سے باہر بُلا کے مارا گیا Read More »

گارے مٹی کا خدا

خزاں رسیدہ شجر سے جھڑتے ضعیف پتوں کے خشک ریشوں کے لب پہ نوحوں کے گل کھلے ہیںسماعتوں کو قریب لاؤتنے کی ہچکی بلا رہی ہےلرزتی آواز کے سہارےملول شاخوں کی سینہ کوبیجو آیتِ ہجر کی تلاوت سے پیشتر ہی ہوا کی وحشت کا زہر پینے کی جستجو میں پڑی ہوئی ہےمجھے بتاؤسنی ہے تم

گارے مٹی کا خدا Read More »

ہوجائیں کِسی کے جو کبھی یار مُنافق

ہوجائیں کِسی کے جو کبھی یار مُنافقسمجھو کہ ہوئے ہیں دَر و دیوار مُنافق اِ ن کو کِسی بازار سے لانا نہیں پَڑتایاروں میں ہی مِل جاتے ہیں تَیّار مُنافق مُمکن تھا کبھی اُن کو میں خاطر میں نہ لاتاہوتے جو مقابل مِرے دو چار مُنافق ناپید ہوا جاتا ہے اِخلاص یہاں پَرسَر دار مُنافق

ہوجائیں کِسی کے جو کبھی یار مُنافق Read More »

قِصّہَ ءِ ہِجر سُنانے کو نہیں آیا ہوں

قِصّہَ ءِ ہِجر سُنانے کو نہیں آیا ہوںمیَں یہاں طِفل تَماشے کو نہیں آیا ہوں تیرا ہر بوجھ اُٹھاؤں گا تِرے ساتھ یہاںمیں کِسی جھوٹے دِلاسے کو نہیں آیا ہوں مَیں اَگر چُپ ہوں تو اَچھا ہے کہ چُپ رَہنے دوکیونکہ مَیں آگ لَگانے کو نہیں آیا ہوں کہنے آیا ہوں سَمجھ دار بَنو ،

قِصّہَ ءِ ہِجر سُنانے کو نہیں آیا ہوں Read More »

یہ بھی بہت ہے جستجوئے نا تمام میں

یہ بھی بہت ہے جستجوئے نا تمام میںاک عکس تیرنے لگا کجلائی شام میں اے عشق بارگاہِ عقیدت سے اٹھ کے دیکھکیا کیا جلا دیا ہے ترے احترام میں لوحِ بدن سے مٹ گئیں ساری کہانیاںاک ان کہی پڑی ہے دلِ تِشنہ کام میں دشوار لگ رہا تھا مگر معجزہ یہ ہےطے ہو گیا ہے

یہ بھی بہت ہے جستجوئے نا تمام میں Read More »

وہ صورتِ گلاب ہے ہر سو کھلا ہوا

وہ صورتِ گلاب ہے ہر سو کھلا ہواحیرت یہ ہے کہ چشمِ تماشا کو کیا ہوا اے ساعتِ گریز یہ کیا ہے معاملہکیوں دیکھتی نہیں ہو کہاں ہوں پڑا ہوا بے چہرگی کی بھیڑ میں چہرہ تلاشتےرنگوں سے خوشبوؤں سے مرا رابطہ ہوا بارِ دگر کہو جو ابھی زیرِ لب کہامیں سن نہیں سکا ہوں

وہ صورتِ گلاب ہے ہر سو کھلا ہوا Read More »

ہمارے ذوقِ رفاقت سے بے خبر ٹھہری

ہمارے ذوقِ رفاقت سے بے خبر ٹھہریحیاتِ حلقہءِ احباب مختصر ٹھہری جنوں کی کار گزاری پہ حرف آیا ہےکہ بور بور ریاضت بھی بے ثمر ٹھہری برنگِ گل میں رہا تازگی سے ہم رشتہمرے مزاج کی خوشبو نگر نگر ٹھہری وہ جس نے لفظوں کی حرمت کو معتبر رکھااسی کی ذات زمانے میں معتبر ٹھہری

ہمارے ذوقِ رفاقت سے بے خبر ٹھہری Read More »

ہم اپنے عہد سے وابستہ بھی جدا بھی ہیں

ہم اپنے عہد سے وابستہ بھی جدا بھی ہیںہیں خاک زاد مگر خاک سے خفا بھی ہیں ہم ان سے لطف طلب ہیں اگرچہ جانتے ہیںہم اپنے واسطے خود باعثِ سزا بھی ہیں وہ لوٹ آئیں تو تخفیف ہو بھی سکتی ہےیہ اور بات کہ کچھ درد لا دوا بھی ہیں یہ ایک طرفہ تماشہ

ہم اپنے عہد سے وابستہ بھی جدا بھی ہیں Read More »

ہم اعتبارِ فکر و نظر لے کے آئے ہیں

ہم اعتبارِ فکر و نظر لے کے آئے ہیںکچھ اجلے موسموں کی خبر لے کے آئے ہیں رکھی ہوئی ہے ہم نے نظر گرد و پیش پرتجسیم ہوتے شام و سحر لے کے آئے ہیں کھلنے لگا ہے آنکھ پہ جو منکشف نہ تھاہم اپنی جستجو کا ثمر لے کے آئے ہیں دیکھے جسے یقیں

ہم اعتبارِ فکر و نظر لے کے آئے ہیں Read More »

اک بہاؤ کی کہانی ہے میاں

اک بہاؤ کی کہانی ہے میاںزندگی دریا کا پانی ہے میاں ہے تحرک سے وقارِ روز و شبورنہ تو سب رائیگانی ہے میاں شعر گوئی کب ہمارے بس میں تھییہ عطائے آسمانی ہے میاں کس طرف جائیں کہ ہر اک موڑ پرایک مرگِ ناگہانی ہے میاں یہ جو پلکوں پر لرزتے اشک ہیںیہ رفاقت کی

اک بہاؤ کی کہانی ہے میاں Read More »