MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ترے آشفتہ سے کیا حال بیتابی بیاں ہوگا

ترے آشفتہ سے کیا حال بیتابی بیاں ہوگاجبین شوق ہوگی اور تیرا آستاں ہوگا زبان شمع محفل سے سنا ہے اہل محمل نےترا انجام کیا پروانۂ آتش بجاں ہوگا تلاطم ہے امیدوں کا تصادم آرزوؤں کادل ہنگامہ پرور کون تیرا راز داں ہوگا رہیں یوں ہی اگر رنگینیاں طرز تبسم کیمرے زخم جگر پر خندۂ […]

ترے آشفتہ سے کیا حال بیتابی بیاں ہوگا Read More »

تو ہے اور عیش ہے اور انجمن آرائی ہے

تو ہے اور عیش ہے اور انجمن آرائی ہےمیں ہوں اور رنج ہے اور گوشۂ تنہائی ہے سچ کہا ہے کہ بہ امید ہے دنیا قائمدل حسرت زدہ بھی تیرا تمنائی ہے دل کی فریاد جو سنتا ہوں تو رو دیتا ہوںچوٹ کمبخت نے کچھ ایسی ہی تو کھائی ہے بے نیازی کی ادائیں وہ

تو ہے اور عیش ہے اور انجمن آرائی ہے Read More »

وفائے دوستاں کیسی جفائے دشمناں کیسی

وفائے دوستاں کیسی جفائے دشمناں کیسینہ پوچھا ہو کسی نے جس کو اس کی داستاں کیسی کچھ ایسا احترام درد الفت ہے مرے دل کوخموشی حکمراں ہے آہ و فریاد و فغاں کیسی کسی کو فکر آزادی نہیں اس قید رنگیں سےدل عالم پہ ہے چھائی ہوئی مہر بتاں کیسی بھلا ہی دیتے ہیں اس

وفائے دوستاں کیسی جفائے دشمناں کیسی Read More »

یہاں ہر آنے والا بن کے عبرت کا نشاں آیا

یہاں ہر آنے والا بن کے عبرت کا نشاں آیاگیا زیر زمیں جو کوئی زیر آسماں آیا نہ ہو گرم اس قدر اے شمع اس میں تیرا کیا بگڑااگر جلنے کو اک پروانۂ آتش بجاں آیا خدا جانے ملا کیا مجھ کو جا کر ان کی محفل میںکہ باصد نامرادی بھی وہاں سے شادماں آیا

یہاں ہر آنے والا بن کے عبرت کا نشاں آیا Read More »

ضبط کی کوشش ہے جان ناتواں مشکل میں ہے

ضبط کی کوشش ہے جان ناتواں مشکل میں ہےکیوں عیاں ہو آنکھ سے وہ غم جو پنہاں دل میں ہے جس سے چاہو پوچھ لو تم میرے سوز دل کا حالشمع بھی محفل میں ہے پروانہ بھی محفل میں ہے عشق غارت گر نے شہہ دی حسن آفت خیز کوشوق بسمل ہی سے کس بل

ضبط کی کوشش ہے جان ناتواں مشکل میں ہے Read More »

زمیں روئی ہمارے حال پر اور آسماں رویا

زمیں روئی ہمارے حال پر اور آسماں رویاہماری بیکسی کو دیکھ کر سارا جہاں رویا میں جب نکلا چمن سے شبنم آب گلستاں رویااداسی چھا گئی ایسی خود آخر باغباں رویا نہ آیا رحم کچھ بھی آہ دل میں اس ستم گر کےہماری جبہہ سائی کے اثر سے آستاں رویا ہر اک عضو بدن ماتم

زمیں روئی ہمارے حال پر اور آسماں رویا Read More »

فکر اقبال اور ہم

تحریر و تحقیق۔ ڈاکٹر دانش عزیز ’’ فکر‘‘ کے معنی سوچ بچار ، عاقبت اندیشی، اِضطراب ، پریشانی کے لئے جاتے ہیں ۔ نفسِ مضمون کو سامنے رکھا جائے تو ہماری آج کی گفتگو کا دائرہ’’ سوچ بچار، اور عاقبت اَندیشی‘‘ کے گرد گھومے گا۔’’ سوچ بچار‘‘ کے لیے سب سے پہلے مسئلے یا وجہ

فکر اقبال اور ہم Read More »

محفلِ دید کے آداب تو سنتے جائیں ۔

محفلِ دید کے آداب تو سنتے جائیں ۔ان کا دیدار کریں اور سرکتے جائیں جن کی مدہوش مزاجی کا بڑا چرچا ہےوہ پلائیں تو سبھی لوگ سنبھلتے جائیں بڑی مدت ہوئ اس شخص کو دیکھا نہ سنااس کے ہم شہر میں آئے ہیں تو ملتے جائیں عین ممکن ہے یہاں فیضِ جنوں ہو جاریعشق والوں

محفلِ دید کے آداب تو سنتے جائیں ۔ Read More »

ملاقات

حضرتِ قیس مِرے خواب میں آئے کل شبحُکم صادر ہوا تیرا میں قَصیدہ لِکھوںمیں نے غالب کا تَصّور میں سَجا کر َپیکرایک سو ایک دَفعہ مِیر تقی مِیر پڑھاحُجرہ ءِ سوچ میں تَقدیس کا چَھڑکاؤ کِیاعقل و دانش کے نہیں بَس میں کہ تعریف کریںسَرِ خم ہاتھ بندھےمیرے اَلفاظ تِرے ہونٹ بنائیں کیسےچشمِ حیرت تِری

ملاقات Read More »

ہم اَگر دُھوپ کی وِیرانی میں سائے بَنتے

ہم اَگر دُھوپ کی وِیرانی میں سائے بَنتےپھر کہاں وحشتِ صحرا کے فسانے بنتے رونقِّ شہر بنے بیٹھے ہو خوش پوش بھی ہویوں تمہارے تو نہیں عشق میں نخرے بنتے تیری آنکھوں میں اگر درد کا ساماں ہوتاخشک دریاؤں کی حیرت کے بھی پشتے بنتے مجھ کو اِن اُونچے سَتونوں پہ بھروسہ ہی نہیںمیں نے

ہم اَگر دُھوپ کی وِیرانی میں سائے بَنتے Read More »