MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

انوکھا درد ہے سب سے جدا ہے سرخوشی میری

انوکھا درد ہے سب سے جدا ہے سرخوشی میریہوئی ہے ایک ایسی زندگی سے دوستی میری مری گفتار سے کھلتا نہیں ہے مدعا میرامرے عیب و ہنر کی ترجماں ہے خامشی میری تعجب کیا جو مجھ میں باغیانہ سوچ پلتی ہےمری مٹی میں ہی گوندھی گئی تھی سرکشی میری مثالِ بیج ہیں امکان کی پرتیں […]

انوکھا درد ہے سب سے جدا ہے سرخوشی میری Read More »

ایک تاریخ مقرر پہ تو ہر ماہ ملے

ایک تاریخ مقرر پہ تو ہر ماہ ملےجیسے دفتر میں کسی شخص کو تنخواہ ملے رنگ اکھڑ جائے تو ظاہر ہو پلستر کی نمیقہقہہ کھود کے دیکھو تو تمہیں آہ ملے جمع تھے رات مرے گھر ترے ٹھکرائے ہوئےایک درگاہ پہ سب راندۂ درگاہ ملے میں تو اک عام سپاہی تھا حفاظت کے لئےشاہ زادی

ایک تاریخ مقرر پہ تو ہر ماہ ملے Read More »

مری بھنووں کے عین درمیان بن گیا

مری بھنووں کے عین درمیان بن گیاجبیں پہ انتظار کا نشان بن گیا سنا ہوا تھا ہجر مستقل تناؤ ہےوہی ہوا مرا بدن کمان بن گیا مہیب چپ میں آہٹوں کا واہمہ ہوامیں سر سے پاؤں تک تمام کان بن گیا ہوا سے روشنی سے رابطہ نہیں رہاجدھر تھیں کھڑکیاں ادھر مکان بن گیا شروع

مری بھنووں کے عین درمیان بن گیا Read More »

دھند میں ڈوبی ساری فضا تھی اس کے بال بھی گیلے تھے

دھند میں ڈوبی ساری فضا تھی اس کے بال بھی گیلے تھےجس کی آنکھیں جھیلوں جیسی جس کے ہونٹ رسیلے تھے جس کو کھو کر خاک ہوئے ہم آج اسے بھی دیکھا توہنستی آنکھیں افسردہ تھیں ہونٹ بھی نیلے نیلے تھے جن کو چھو کر کتنے زیدیؔ اپنی جان گنوا بیٹھےمیرے عہد کی شہنازوںؔ کے

دھند میں ڈوبی ساری فضا تھی اس کے بال بھی گیلے تھے Read More »

دل و نگاہ میں اس کو اگر نہیں رہنا

دل و نگاہ میں اس کو اگر نہیں رہناشناسؔ مجھ کو بھی پھر در بدر نہیں رہنا اگر میں آؤں گا صدیوں کی عمر لاؤں گاکہ تیرے پاس مجھے مختصر نہیں رہنا یہ کائنات مری انگلیوں پہ ناچتی ہےمجھے ستاروں کے زیر اثر نہیں رہنا میں جانتا ہوں مگر دل کو کون سمجھائےشناسؔ اس کو

دل و نگاہ میں اس کو اگر نہیں رہنا Read More »

دل تباہ کو اب تک نہیں یقیں آیا

دل تباہ کو اب تک نہیں یقیں آیاکہ شام بیت گئی اور تو نہیں آیا جہاں سے میں نے کیا تھا کبھی سفر آغازمیں خاک دھول ہوا لوٹ کر وہیں آیا وہ جس کے ہاتھ سے تقریب دل نمائی تھیابھی وہ لمحۂ موجود میں نہیں آیا بس ایک بار مری نیند چھو گیا کوئیپھر اس

دل تباہ کو اب تک نہیں یقیں آیا Read More »

ہم ایک دن نکل آئے تھے خواب سے باہر

ہم ایک دن نکل آئے تھے خواب سے باہرسو ہم نے رنج اٹھائے حساب سے باہر اسی امید پہ گزری ہے زندگی ساریکبھی تو ہم سے ملوگے حجاب سے باہر تمہاری یاد نکلتی نہیں مرے دل سےنشہ چھلکتا نہیں ہے شراب سے باہر کسی کے دل میں اترنا ہے کار لا حاصلکہ ساری دھوپ تو

ہم ایک دن نکل آئے تھے خواب سے باہر Read More »

حسن الفاظ کے پیکر میں اگر آ سکتا

حسن الفاظ کے پیکر میں اگر آ سکتاکیسا ہوتا ہے خدا تم کو میں دکھلا سکتا اس سفر پہ ہوں کہ ہلکان ہوا جاتا ہوںاور کہاں جانا ہے یہ بھی نہیں بتلا سکتا ہارنا بھی ہے یقینی پہ مری فطرت ہےایک ہی چال ہمیشہ نہیں دہرا سکتا زندگی اب تو مجھے اور کھلونے لا دےایسے

حسن الفاظ کے پیکر میں اگر آ سکتا Read More »

لہو کی لہر میں اک خواب دل شکن بھی گیا

لہو کی لہر میں اک خواب دل شکن بھی گیاپھر اس کے ساتھ ہی آنکھیں گئیں بدن بھی گیا بدلتے وقت نے بدلے مزاج بھی کیسےتری ادا بھی گئی میرا بانکپن بھی گیا بس ایک بار وہ آیا تھا سیر کرنے کوپھر اس کے ساتھ ہی خوشبو گئی چمن بھی گیا بس اک تعلق بے

لہو کی لہر میں اک خواب دل شکن بھی گیا Read More »

رستے میں شام ہو گئی قصہ تمام ہو چکا

رستے میں شام ہو گئی قصہ تمام ہو چکاجو کچھ بھی تھا اے زندگی وہ تیرے نام ہو چکا کب کی گزر گئی وہ شب جس میں کسی کا نور تھاکب کی گلی میں دھوپ ہے جینا حرام ہو چکا پھرتے رہیں نگر نگر کوچہ بہ کوچہ در بہ دراپنے خیام جل چکے اپنا سلام

رستے میں شام ہو گئی قصہ تمام ہو چکا Read More »