MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یہ بھی بہت ہے جستجوئے نا تمام میں

یہ بھی بہت ہے جستجوئے نا تمام میں
اک عکس تیرنے لگا کجلائی شام میں

اے عشق بارگاہِ عقیدت سے اٹھ کے دیکھ
کیا کیا جلا دیا ہے ترے احترام میں

لوحِ بدن سے مٹ گئیں ساری کہانیاں
اک ان کہی پڑی ہے دلِ تِشنہ کام میں

دشوار لگ رہا تھا مگر معجزہ یہ ہے
طے ہو گیا ہے فاصلہ دو چار گام میں

اتراتی پھر رہی ہے چمن میں بہارِگل
مستی بھرا پیام ہے پھولوں کے نام میں

جیسا بھی ہو سلوک گوارا ہے عشق میں
کچھ فرق اب نہیں رہا دانہ و دام میں

یوسف خالد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم