MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

وہ اپنی ذات میں گم تھا نہیں کھلا مرے ساتھ

وہ اپنی ذات میں گم تھا نہیں کھلا مرے ساتھرہا ہے ساتھ مرے پر نہیں رہا مرے ساتھ یہ تیری یاد کا اعجاز ہی تو ہے کہ یہ دلمیں جل کے راکھ ہوا ہوں نہیں جلا مرے ساتھ ترے خلاف کیا جب بھی احتجاج اے دوستمرا وجود بھی شامل نہیں ہوا مرے ساتھ مرا جو […]

وہ اپنی ذات میں گم تھا نہیں کھلا مرے ساتھ Read More »

وہ بھی گمراہ ہو گیا ہوگا

وہ بھی گمراہ ہو گیا ہوگامیرا بد خواہ ہو گیا ہوگا میرے حق میں جو بول اٹھا ہےدرد آگاہ ہو گیا ہوگا سجدۂ شوق جو ادا نہ ہواسنگ درگاہ ہو گیا ہوگا حادثے کی ہمیں خبر ہی نہیںخیر ناگاہ ہو گیا ہوگا واقعہ آپ تک نہیں پہنچانذر افواہ ہو گیا ہوگا صورت حال دیکھ کر

وہ بھی گمراہ ہو گیا ہوگا Read More »

یہ دل کہتا ہے اداکار تیرے بس میں نہیں

یہ دل کہتا ہے اداکار تیرے بس میں نہیںمیں خون تھوکتا کردار تیرے بس میں نہیں میں مانتا ہوں کہ تجھ کو بھلا نہیں سکتامجھے بھلانا بھی اے یار تیرے بس میں نہیں ہے روز بارگاہِ دل میں آگ پر ماتمیہ غم منانا عزا دار تیرے بس میں نہیں مرے خدا ہو مجھے بھی بشارتیں

یہ دل کہتا ہے اداکار تیرے بس میں نہیں Read More »

ڈھونڈھنے سے یوں تو اس دنیا میں کیا ملتا نہیں

ڈھونڈھنے سے یوں تو اس دنیا میں کیا ملتا نہیںسچ اگر پوچھو تو سچا آشنا ملتا نہیں آپ کے جو یار بنتے ہیں وہ ہیں مطلب کے یاراس زمانے میں محب با صفا ملتا نہیں سیرتوں میں بھی ہے انسانوں کی باہم اختلافایک سے صورت میں جیسے دوسرا ملتا نہیں دیر و کعبہ میں بھٹکتے

ڈھونڈھنے سے یوں تو اس دنیا میں کیا ملتا نہیں Read More »

اک خواب کا خیال ہے دنیا کہیں جسے

اک خواب کا خیال ہے دنیا کہیں جسےہے اس میں اک طلسم تمنا کہیں جسے اک شکل ہے تفنن طبع جمال کیاس سے زیادہ کچھ نہیں دنیا کہیں جسے خمیازہ ہے کرشمہ پرستئ دہر کااہل زمانہ عالم عقبیٰ کہیں جسے اک اشک ارمیدۂ ضبط غم فراقموج ہوائے شوق ہے دریا کہیں جسے باوصف ضبط راز

اک خواب کا خیال ہے دنیا کہیں جسے Read More »

فدا اللہ کی خلقت پہ جس کا جسم و جاں ہوگا

فدا اللہ کی خلقت پہ جس کا جسم و جاں ہوگاوہی افسانۂ ہستی کا میر داستاں ہوگا یقیں جس کا کلام قدس اجرالمحسنیں پر ہونکو کاری کا اس کی قائل اک دن کل جہاں ہوگا حیات جاودانی پائے گا وہ عشق صادق میںجو عنقا کی طرح معدوم ہوگا بے نشاں ہوگا سفر راہ محبت کا

فدا اللہ کی خلقت پہ جس کا جسم و جاں ہوگا Read More »

حسن ازل کا جلوہ ہماری نظر میں ہے

حسن ازل کا جلوہ ہماری نظر میں ہےجو طور پر ہوا تھا دل دیدہ ور میں ہے دیر و حرم میں کس لیے آوارہ گردیاںجس کی تجھے تلاش ہے وہ دل کے گھر میں ہے جو دیکھنے کی آنکھ ہے تجھ کو نہیں ملیوہ نور قد میں ورنہ شجر میں حجر میں ہے خاموشیوں میں

حسن ازل کا جلوہ ہماری نظر میں ہے Read More »

کوئی دل لگی دل لگانا نہیں ہے

کوئی دل لگی دل لگانا نہیں ہےقیامت ہے یہ دل کا آنا نہیں ہے منائیں انہیں وصل میں کس طرح ہمیہ روٹھے کا کوئی منانا نہیں ہے ہے منظور انہیں امتحاں شوق دل کانزاکت کا خالی بہانہ نہیں ہے وفا پر دغا صلح میں دشمنی ہےبھلائی کا ہرگز زمانہ نہیں ہے شب غم بھی ہو

کوئی دل لگی دل لگانا نہیں ہے Read More »

لطف ہو حشر میں کچھ بات بنائے نہ بنے

لطف ہو حشر میں کچھ بات بنائے نہ بنےآنکھ بھی شوخ ستمگر سے چرائے نہ بنے مجھ کو اٹھوا تو دیا اس نے بھری محفل سےکون تھا یہ کوئی پوچھے تو بتائے نہ بنے بات ساری یہ ہے وہ ضد پہ اڑے بیٹھے ہیںیاد کی بھول ہو تو لاکھ جتائے نہ بنے تم سے اب

لطف ہو حشر میں کچھ بات بنائے نہ بنے Read More »

پردہ دار ہستی تھی ذات کے سمندر میں

پردہ دار ہستی تھی ذات کے سمندر میںحسن خوب کھل کھیلا اس صفت کے منظر میں حسن عشق میں ہے یا عشق حسن میں مضمرجوہر آئنے میں یا آئینہ ہے جوہر میں عشق محشر آرا کی طور پر گری بجلیحسن لن ترانی کہ رہ سکا نہ چادر میں دیکھ اے تماشائی گل ہے رنگ و

پردہ دار ہستی تھی ذات کے سمندر میں Read More »