MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

قسمت برے کسی کے نہ اس طرح لائے دن

قسمت برے کسی کے نہ اس طرح لائے دنآفت نئی ہے روز مصیبت ہے آئے دن دن سن یہ اور دن دئیے اللہ کی پناہاس ماہ نے تو خوب ہی ہم سے گنائے دن ہے دم شماری دن کو تو اختر شماری شباس طرح تو خدا نہ کسی کے کٹائے دن ان کی نظر پھری […]

قسمت برے کسی کے نہ اس طرح لائے دن Read More »

راحت کہاں نصیب تھی جو اب کہیں نہیں

راحت کہاں نصیب تھی جو اب کہیں نہیںوہ آسماں نہیں ہے کہ اب وہ زمیں نہیں ہو جوش صدق دل میں تو راحت بغل میں ہوقائم یہ آسمان رہے یا زمیں نہیں حب وطن کو ہمت مردانہ چاہیئےدرکار آہ سینۂ اندوہ گیں نہیں خون دل و جگر سے اسے سینچ اے عزیزکشت وطن ہے یہ

راحت کہاں نصیب تھی جو اب کہیں نہیں Read More »

صورت حال اب تو وہ نقش خیالی ہو گیا

صورت حال اب تو وہ نقش خیالی ہو گیاجو مقام ماسوا تھا دل میں خالی ہو گیا ممتنع جو تھا وہ ہے زیب بداہت قلب کوجو یقینی امر تھا وہ احتمالی ہو گیا چھوڑی خود بینی تو اب ہر شے میں حسن آیا نظردیدۂ حق بیں جلالی سے جمالی ہو گیا ذوق نظارہ یہ ہے

صورت حال اب تو وہ نقش خیالی ہو گیا Read More »

یا الٰہی مجھ کو یہ کیا ہو گیا

یا الٰہی مجھ کو یہ کیا ہو گیادوستی کا تیری سودا ہو گیا دوستی کیا ہم سری کا دھیان ہےقید سے آزاد اتنا ہو گیا کیسی آزادی اسیری چیز کیاجب فنا رنگ تمنا ہو گیا جب تمنا اور ڈر جاتا رہاتو ہر اک شے سے مبرا ہو گیا یوں مبرا ہو گئی جب کوئی ذاتبند

یا الٰہی مجھ کو یہ کیا ہو گیا Read More »

زندگی کا کس لیے ماتم رہے

زندگی کا کس لیے ماتم رہےملک بستا ہے مٹے یا ہم رہے دل رہے پیری میں بھی تیرا جواںآخری دم تک یہی دم خم رہے چاہیئے انسان کا دل ہو غنیپاس مال و زر بہت یا کم رہے کیا اسی جنت کی یہ تحریص ہےجس میں کچھ دن حضرت آدم رہے وصل سے مطلب نہ

زندگی کا کس لیے ماتم رہے Read More »

انجام یہ ہوا ہے دل بے قرار کا

انجام یہ ہوا ہے دل بے قرار کاتھمتا نہیں ہے پانوں ہمارے غبار کا پہلے کیا خیال نہ گل کا نہ خار کااب دکھ رہا ہے پانوں نسیم بہار کا پیہم دیے وہ رنج کہ انساں بنا دیامنت پذیر ہوں ستم روزگار کا اس کو خزاں کے آنے کا کیا رنج کیا قلقروتے کٹا ہو

انجام یہ ہوا ہے دل بے قرار کا Read More »

غرض رہبر سے کیا مجھ کو گلہ ہے جذب کامل سے

غرض رہبر سے کیا مجھ کو گلہ ہے جذب کامل سےکہ جتنا بڑھ رہا ہوں ہٹ رہا ہوں دور منزل سے سکوت بے محل تقریر بے موقع کی تہمت کیوںاٹھانا ہو تو یوں ہم کو اٹھا دو اپنی محفل سے یہ ارمان ترقی آج ہے دعویٰ خدائی کااسی دل کا جو کل تک تھا لہو

غرض رہبر سے کیا مجھ کو گلہ ہے جذب کامل سے Read More »

گل ویرانہ ہوں کوئی نہیں ہے قدرداں میرا

گل ویرانہ ہوں کوئی نہیں ہے قدرداں میراتو ہی دیکھ اے مرے خلاق حسن رائیگاں میرا یہ کہہ کر روح نکلی ہے تن عاشق سے فرقت میںمجھے عجلت ہے بڑھ جائے نہ آگے کارواں میرا ہوا اس کو اڑا لے جائے اب یا پھونک دے بجلیحفاظت کر نہیں سکتا مری جب آشیاں میرا زمیں پر

گل ویرانہ ہوں کوئی نہیں ہے قدرداں میرا Read More »

جینے میں تھی نہ نزع کے رنج و محن میں تھی

جینے میں تھی نہ نزع کے رنج و محن میں تھیعاشق کی ایک بات جو دیوانہ پن میں تھی سادہ ورق تھا باہمہ گل ہائے رنگ رنگتفسیر جان پاک بیاض کفن میں تھی بڑھتا تھا اور ذوق طلب بیکسی کے ساتھکچھ دل کشی عجیب نواح وطن میں تھی بیمار جب ہیں کرتے ہیں فریاد چارہ

جینے میں تھی نہ نزع کے رنج و محن میں تھی Read More »

نکل جائے یوں ہی فرقت میں دم کیا

نکل جائے یوں ہی فرقت میں دم کیانہ ہوگا آپ کا مجھ پر کرم کیا ہنسے بھی روئے بھی لیکن نہ سمجھےخوشی کیا چیز ہے دنیا میں غم کیا مبارک ظالموں کو ظلم ہم پرجو اپنا ہی کیا ہے اس کا غم کیا مٹا جب امتیاز کفر و ایماںمکان کعبہ کیا بیت الصنم کیا نہیں

نکل جائے یوں ہی فرقت میں دم کیا Read More »