MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ڈھونڈھنے سے یوں تو اس دنیا میں کیا ملتا نہیں

ڈھونڈھنے سے یوں تو اس دنیا میں کیا ملتا نہیں
سچ اگر پوچھو تو سچا آشنا ملتا نہیں

آپ کے جو یار بنتے ہیں وہ ہیں مطلب کے یار
اس زمانے میں محب با صفا ملتا نہیں

سیرتوں میں بھی ہے انسانوں کی باہم اختلاف
ایک سے صورت میں جیسے دوسرا ملتا نہیں

دیر و کعبہ میں بھٹکتے پھر رہے ہیں رات دن
ڈھونڈھنے سے بھی تو بندوں کو خدا ملتا نہیں

ہیں پریشاں اور حیراں جائیں تو جائیں کدھر
راہ گم گشتوں کو منزل کا پتا ملتا نہیں

بوالہوس دل کی طرح ہر رنگ ہے صرف شکست
لالہ و گل میں بھی رنگ دیر پا ملتا نہیں

ہے یہاں تو سیر گلزار خیال نوع بہ نوع
ہاں اسیرو ہم کو مضموں کچھ نیا ملتا نہیں

روئیے رونا زمانے کا تو کیفیؔ کس کے پاس
کوئی اس دل کے سوا درد آشنا ملتا نہیں

دتا تریہ کیفی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم