MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

سوچتے رہنے سے کیا قسمت کا لکھا جائے گا

سوچتے رہنے سے کیا قسمت کا لکھا جائے گاجو بھی ہونا تھا ہوا جو ہوگا دیکھا جائے گا شہر کی سرحد تلک پہنچا کے سب رخصت ہوئےاب یہاں سے بس مرے ہمراہ صحرا جائے گا اب کوئی دیوار اس کے سامنے رکتی نہیںسیل گریہ اب مرے روکے نہ روکا جائے گا کیا مری آنکھوں سے […]

سوچتے رہنے سے کیا قسمت کا لکھا جائے گا Read More »

تمام پھینکے گئے پتھروں پہ بھاری تھا

تمام پھینکے گئے پتھروں پہ بھاری تھاوہ ایک پھول اکیلا سبھوں پہ بھاری تھا نہ مجھ سے دل نے بتایا نہ میں نے ہی جاناوہ کیسا غم تھا جو سارے غموں پہ بھاری تھا میں ان کی رہ سے گزرتا نہ تھا مگر پھر بھیمرا وجود مرے دشمنوں پہ بھاری تھا اگرچہ بیٹھا تھا میں

تمام پھینکے گئے پتھروں پہ بھاری تھا Read More »

تھا عبث خوف کہ آسیب گماں میں ہی تھا

تھا عبث خوف کہ آسیب گماں میں ہی تھامجھ میں سایہ سا کوئی اور کہاں میں ہی تھا سب نے دیکھا تھا کچھ اٹھتا ہوا میرے گھر سےپھیلتا اور بکھرتا وہ دھواں میں ہی تھا سچ تھا وہ زہر گوارا ہی کسی کو نہ ہواتلخی ذائقۂ کام و زیاں میں ہی تھا خود ہی پیاسا

تھا عبث خوف کہ آسیب گماں میں ہی تھا Read More »

ایسا نہیں کہ منہ میں ہمارے زباں نہیں

ایسا نہیں کہ منہ میں ہمارے زباں نہیںہیں کم سخن ضرور پہ عاجز بیاں نہیں ہر چند جانتے ہیں اسے ہم قریب سےپر کیا کریں کہ پاۓ سخن درمیاں نہیں اچھا تو ایک پل کے لئے ہی اٹھا کے دیکھاے آسماں جو بار امانت گراں نہیں خود ہم میں تاب دید نہیں ہے یہ اور

ایسا نہیں کہ منہ میں ہمارے زباں نہیں Read More »

ہم وفادار ہیں اور اس سے زیادہ کیا ہوں

ہم وفادار ہیں اور اس سے زیادہ کیا ہوںبس ترے یار ہیں اور اس سے زیادہ کیا ہوں ایک ہی سچ نے ہمیں ایسا کیا سرافرازبرسر دار ہیں اور اس سے زیادہ کیا ہوں میں اکیلا ہوں مری جان کے دشمن افلاکایک دو چار ہیں اور اس سے زیادہ کیا ہوں نام سنتے ہی مرا

ہم وفادار ہیں اور اس سے زیادہ کیا ہوں Read More »

عشق ہوں جرأت اظہار بھی کر سکتا ہوں

عشق ہوں جرأت اظہار بھی کر سکتا ہوںخود کو رسوا سر بازار بھی کر سکتا ہوں تو سمجھتا ہے کہ میں کچھ بھی نہیں تیرے بغیرمیں ترے پیار سے انکار بھی کر سکتا ہوں غیر ممکن ہی سہی تجھ کو بھلانا لیکنیہ جو دریا ہے اسے پار بھی کر سکتا ہوں تو مری امن پسندی

عشق ہوں جرأت اظہار بھی کر سکتا ہوں Read More »

میں اپنے دل کی طرح آئنہ بنا ہوا ہوں

میں اپنے دل کی طرح آئنہ بنا ہوا ہوںسو حیرتوں کے لیے مسئلہ بنا ہوا ہوں پہنچ تو سکتا تھا منزل پہ میں مگر اے دوستمیں دوسروں کے لیے راستہ بنا ہوا ہوں میں جب چلا تھا تو اپنے بھی مجھ کو چھوڑ گئےاور آج دیکھ لو میں قافلہ بنا ہوا ہوں ستم تو یہ

میں اپنے دل کی طرح آئنہ بنا ہوا ہوں Read More »

نخل ممنوعہ کے رخ دوبارہ گیا میں تو مارا گیا

نخل ممنوعہ کے رخ دوبارہ گیا میں تو مارا گیاعرش سے فرش پر کیوں اتارا گیا میں تو مارا گیا جو پڑھا تھا کتابوں میں وہ اور تھا زندگی اور ہےمیرا ایمان سارے کا سارا گیا میں تو مارا گیا غم گلے پڑ گیا زندگی بجھ گئی عقل جاتی رہیعشق کے کھیل میں کیا تمہارا

نخل ممنوعہ کے رخ دوبارہ گیا میں تو مارا گیا Read More »

صف ماتم پہ جو ہم ناچنے گانے لگ جائیں

صف ماتم پہ جو ہم ناچنے گانے لگ جائیںگردش وقت! ترے ہوش ٹھکانے لگ جائیں وہ تو وہ اس کی معیت میں گزارا ہوا پلجو بھلائیں تو بھلانے میں زمانے لگ جائیں مرے قادر! جو تو چاہے تو یہ ممکن ہو جائےرفتگاں شہر عدم سے یہاں آنے لگ جائیں بزم دنیا سے چلوں ایسا نہ

صف ماتم پہ جو ہم ناچنے گانے لگ جائیں Read More »

سر پہ حرف آتا ہے دستار پہ حرف آتا ہے

سر پہ حرف آتا ہے دستار پہ حرف آتا ہےتنگ ہوں لوگ تو سردار پہ حرف آتا ہے ویسے تو میں بھی بھلا سکتا ہوں تجھ کو لیکنعشق ہوں سو مرے کردار پہ حرف آتا ہے گھر کی جب بات نکل جاتی ہے گھر سے باہردر پہ حرف آتا ہے دیوار پہ حرف آتا ہے

سر پہ حرف آتا ہے دستار پہ حرف آتا ہے Read More »