MOJ E SUKHAN

زندگی کا کس لیے ماتم رہے

زندگی کا کس لیے ماتم رہے
ملک بستا ہے مٹے یا ہم رہے

دل رہے پیری میں بھی تیرا جواں
آخری دم تک یہی دم خم رہے

چاہیئے انسان کا دل ہو غنی
پاس مال و زر بہت یا کم رہے

کیا اسی جنت کی یہ تحریص ہے
جس میں کچھ دن حضرت آدم رہے

وصل سے مطلب نہ رکھ تو عشق کا
دم بھرے جا دم میں جب تک دم رہے

لاگ اک دن بن کے رہتی ہے لگاؤ
ہاں لگاوٹ کچھ نہ کچھ باہم رہے

عشق نے جس دل پہ قبضہ کر لیا
پھر کہاں اس میں نشاط و غم رہے

شرق سے جب نور چمکا تو کہاں
برگ گل پر قطرۂ شبنم رہے

حسن کی دنیا کا ہے دائم شباب
حشر تک اس کا یہی عالم رہے

ہے سرور حسن کیفیؔ لا یزال
در خور ظرف اس میں بیش و کم رہے

دتا تریہ کیفی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم