MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

آنکھوں پہ وہ زلف آ رہی ہے

غزل

آنکھوں پہ وہ زلف آ رہی ہے
کالی جادو جگا رہی ہے

زنجیر جو کھڑکھڑا رہی ہے
وحشت کیا غل مچا رہی ہے

لیلیٰ خاکہ اڑا رہی ہے
مجنوں کو ہوا بتا رہی ہے

زلفیں وہ پری ہلا رہی ہے
دیوانوں کی شامت آ رہی ہے

پامال خرام ہو چکے دفن
پسنے کو بس اب حنا رہی ہے

ہیں چال سے ان کی زندہ درگور
مردوں پہ قیامت آ رہی ہے

دل نے الفت سے زک اٹھائی
آنکھوں دیکھا رلا رہی ہے

گویا ہونے دے بے زبانی
کیوں میرا گلا دبا رہی ہے

آغاؔ صاحب گلی میں ان کی
اک حور تمہیں بلا رہی ہے

آغا اکبر آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم