غزل
ہے یہی التجا اداسی میں
تو ملے بارہا اداسی میں
ایک بس خود کو کھو دیا میں نے
ورنہ کیا کچھ نہ تھا اداسی میں
مجھ میں تھیں خامیاں تواتر سے
وہ سنوارا گیا اداسی میں
تجھ کو گنتے تھے ہنسنے والوں میں
تو بھی دکھنے لگا اداسی میں
رشک آتا ہے ایسے لوگوں پر
جن کو ہنسنا پڑا اداسی میں
غیر کا ہاتھ تھامنے والے
جھیل اپنی سزا اداسی میں
میں سناتی رہی غزل اپنی
مجھ کو جو بھی ملا اداسی میں
خود کو برباد کر دیا میں نے
وہ بھی ، اچھا بھلا اداسی میں
کوئی شکوہ نہیں کسی سے عمود
میں نے سب سے کہا اداسی میں
عمود ابرار احمد