MOJ E SUKHAN

ہے یہی التجا اداسی میں

غزل

ہے یہی التجا اداسی میں
تو ملے بارہا اداسی میں
ایک بس خود کو کھو دیا میں نے
ورنہ کیا کچھ نہ تھا اداسی میں
مجھ میں تھیں خامیاں تواتر سے
وہ سنوارا گیا اداسی میں
تجھ کو گنتے تھے ہنسنے والوں میں
تو بھی دکھنے لگا اداسی میں
رشک آتا ہے ایسے لوگوں پر
جن کو ہنسنا پڑا اداسی میں
غیر کا ہاتھ تھامنے والے
جھیل اپنی سزا اداسی میں
میں سناتی رہی غزل اپنی
مجھ کو جو بھی ملا اداسی میں
خود کو برباد کر دیا میں نے
وہ بھی ، اچھا بھلا اداسی میں
کوئی شکوہ نہیں کسی سے عمود
میں نے سب سے کہا اداسی میں
عمود ابرار احمد
Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم