MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

وحشتوں کو بھی اب کمال کہاں

وحشتوں کو بھی اب کمال کہاںاب جنوں کار بے مثال کہاں خود سے بھی مانگتی نہیں خود کوتجھ سے پھر خواہش سوال کہاں میرے ہم رنگ پیرہن پہنےشام ایسی شکستہ حال کہاں صبح کی بھیڑ میں کہوں کس سےہو گئی رات پائمال کہاں میری سب حالتوں کو جان سکےکوئی ایسا شریک حال کہاں تیرے خوابوں […]

وحشتوں کو بھی اب کمال کہاں Read More »

اب جشن اشک اے شب ہجراں کریں گے ہم

اب جشن اشک اے شب ہجراں کریں گے ہماپنی تباہیوں پہ چراغاں کریں گے ہم خود تو کبھی نہ آئے گی ہونٹوں پہ اب ہنسیہاں دوسروں کے ہنسنے کا ساماں کریں گے ہم کیا تھی خبر کہ حد سے گزر جائے گا جنوںہاتھوں سے اپنے چاک گریباں کریں گے ہم پھر جامۂ جنوں کی کریں

اب جشن اشک اے شب ہجراں کریں گے ہم Read More »

بیٹھے ہیں ایسے زلف میں کلیاں سنوار کے

بیٹھے ہیں ایسے زلف میں کلیاں سنوار کےآئے ہوں جیسے ان کے لئے دن بہار کے اے تیز رو زمانے تجھے کچھ خبر بھی ہےلمحے صدی بنے ہیں شب انتظار کے باقی رہے نہ گلشن و گل اور نہ آشیاںلیکن ہیں چار سو وہی چرچے بہار کے اے رہ روان گور غریباں خموش ہوسوئے ہیں

بیٹھے ہیں ایسے زلف میں کلیاں سنوار کے Read More »

دیوانگئ عشق پہ الزام کچھ بھی ہو

دیوانگئ عشق پہ الزام کچھ بھی ہو دل دے دیا ہے آپ کو انجام کچھ بھی ہو دل کو یقیں ہے جذبۂ دیدار کی قسم وہ آئے گا ضرور سر بام کچھ بھی ہو آندھی کی زد پہ رکھ تو دیا ہے چراغ دل روشن رہے کہ گل ہو سر شام کچھ بھی ہو دل

دیوانگئ عشق پہ الزام کچھ بھی ہو Read More »

جان جانے کو ہے اور رقص میں پروانہ ہے

جان جانے کو ہے اور رقص میں پروانہ ہےکتنا رنگین محبت ترا افسانہ ہے یہ تو دیکھا کہ مرے ہاتھ میں پیمانہ ہےیہ نہ دیکھا کہ غم عشق کو سمجھانا ہے اتنا نزدیک ہوئے ترک تعلق کی قسمجو کہانی ہے مری آپ کا افسانہ ہے ہم نہیں وہ کہ بھلا دیں ترے احسان و کرماک

جان جانے کو ہے اور رقص میں پروانہ ہے Read More »

کہوں تو کیا میں کہوں پیاری پیاری آنکھوں کو

کہوں تو کیا میں کہوں پیاری پیاری آنکھوں کوسبو کہوں کہ صراحی تمہاری آنکھوں کو کچھ ایسا چھایا ہے دل پر مرے غبار المگلوں کے سائے بھی لگتے ہیں بھاری آنکھوں کو جھلک رہے ہیں وہ پلکوں پہ آنسوؤں کی طرحوہ غم جو تم نے دئیے ہیں ہماری آنکھوں کو جھکیں جو پلکیں تو رک

کہوں تو کیا میں کہوں پیاری پیاری آنکھوں کو Read More »

کیوں دل ترے خیال کا حامل نہیں رہا

کیوں دل ترے خیال کا حامل نہیں رہایہ آئینہ بھی دید کے قابل نہیں رہا صحرا نوردیوں میں گزاری ہے زندگیاب مجھ کو خوف دورئ منزل نہیں رہا ارباب رنگ و بو کی نظر میں خدا گواہکب احترام کوچۂ قاتل نہیں رہا زنداں میں خامشی ہے کوئی بولتا نہیںحد ہو گئی کہ شور سلاسل نہیں

کیوں دل ترے خیال کا حامل نہیں رہا Read More »

رہے گا پیاسوں سے پانی کا فاصلہ کب تک

رہے گا پیاسوں سے پانی کا فاصلہ کب تکرہے گا گھر مرا میدان کربلا کب تک ترے پڑوس کے پتھر کبھی تو جاگیں گےرہے گا کانچ کے محلوں میں تو خدا کب تک یہ زرد زرد سی مدقوق کونپلوں کے لئےمرے بدن کا رہے گا شجر ہرا کب تک چھپا سکوں گا کہاں تک میں

رہے گا پیاسوں سے پانی کا فاصلہ کب تک Read More »

رہ حیات میں بس وہ قدم بڑھا کے چلے

رہ حیات میں بس وہ قدم بڑھا کے چلےدیئے لہو کے سر راہ جو جلا کے چلے گلوں کو پیار کیا اور گلے لگا کے چلےچمن میں خاروں سے دامن نہ ہم بچا کے چلے پتا چلا نہ مسافت کا پا گئے منزلقدم سے جب بھی قدم دوستو ملا کے چلے نہیں ہیں واقف اسرار

رہ حیات میں بس وہ قدم بڑھا کے چلے Read More »

ساری جفائیں سارے کرم یاد آ گئے

ساری جفائیں سارے کرم یاد آ گئےجیسے بھی یاد آئے ہوں ہم یاد آ گئے جب بھی کہیں سے پیار ملا یا خوشی ملیدنیا کے درد و رنج الم یاد آ گئے دیکھیں ہیں جب بھی گل کے قریں چند تتلیاںکتنے خیال و خواب بہم یاد آ گئے لکھا تھا تم نے خط میں کہ

ساری جفائیں سارے کرم یاد آ گئے Read More »