وحشتوں کو بھی اب کمال کہاں
وحشتوں کو بھی اب کمال کہاںاب جنوں کار بے مثال کہاں خود سے بھی مانگتی نہیں خود کوتجھ سے پھر خواہش سوال کہاں میرے ہم رنگ پیرہن پہنےشام ایسی شکستہ حال کہاں صبح کی بھیڑ میں کہوں کس سےہو گئی رات پائمال کہاں میری سب حالتوں کو جان سکےکوئی ایسا شریک حال کہاں تیرے خوابوں […]
وحشتوں کو بھی اب کمال کہاں Read More »