MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دیوانگئ عشق پہ الزام کچھ بھی ہو

دیوانگئ عشق پہ الزام کچھ بھی ہو

دل دے دیا ہے آپ کو انجام کچھ بھی ہو

دل کو یقیں ہے جذبۂ دیدار کی قسم

وہ آئے گا ضرور سر بام کچھ بھی ہو

آندھی کی زد پہ رکھ تو دیا ہے چراغ دل

روشن رہے کہ گل ہو سر شام کچھ بھی ہو

دل کو تو اعتماد ہے ساقی کی ذات پر

اب زہر دے کہ وہ مئے گلفام کچھ بھی ہو

ساغرؔ نے دل کو رکھ تو دیا ہے ترے حضور

بے نام اب رہے یا ملے نام کچھ بھی ہو

ساغر خیامی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم