MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

توبہ توبہ سے ندامت کی گھڑی آئی ہے

توبہ توبہ سے ندامت کی گھڑی آئی ہےمیکدے پر بڑی گھنگھور گھٹا چھائی ہے رنگ کچھ اتنا مری وحشت دل لائی ہےمجمع عام ہے اور آپ کا سودائی ہے اشک پیتا ہوں تو لو دیتے ہیں چھالے دل کےآہ کرتا ہوں تو پھر عشق کی رسوائی ہے لو نہ دینے لگیں جلتے ہوئے گل کے […]

توبہ توبہ سے ندامت کی گھڑی آئی ہے Read More »

اٹھ چلے وہ تو اس میں حیرت کیا

اٹھ چلے وہ تو اس میں حیرت کیاان کے آگے وفا کی قیمت کیا اس کے کوچے سے ہو کے آیا ہوںاس سے اچھی ہے کوئی جنت کیا شہر سے وہ نکلنے والے ہیںسر پہ ٹوٹے گی پھر قیامت کیا تیرے بندوں کی بندگی کی ہےیہ عبادت نہیں عبادت کیا کوئی پوچھے کہ عشق کیا

اٹھ چلے وہ تو اس میں حیرت کیا Read More »

یہ حادثہ ہے بتا دے کوئی زمانے کو

یہ حادثہ ہے بتا دے کوئی زمانے کوکہ ہم نے آگ لگائی ہے آشیانے کو تمہیں سکوں تو کسی کل ملے چمن والوچلو جلا دیا خود ہم نے آشیانے کو سلوک لطف و نگاہ کرم سے اے ساقیشراب خانہ بنا دے شراب خانے کو یہ بادہ خوار جو قیدی ہیں نشہ بندی کےشراب خانہ بنا

یہ حادثہ ہے بتا دے کوئی زمانے کو Read More »

ہم اس کے سامنے حسن و جمال کیا رکھتے

ہم اس کے سامنے حسن و جمال کیا رکھتےجو بے مثال ہے اس کی مثال کیا رکھتے جو بے وفائی کو اپنا ہنر سمجھتا ہےہم اس کے آگے وفا کا سوال کیا رکھتے ہمارا دل کسی جاگیر سے نہیں ارزاںہم اس کے سامنے مال و منال کیا رکھتے اسے تو رشتے نبھانے کی آرزو ہی

ہم اس کے سامنے حسن و جمال کیا رکھتے Read More »

کیسے بناؤں ہاتھ پر تصویر خواب کی

کیسے بناؤں ہاتھ پر تصویر خواب کیمجھ کو ملی نہ آج تک تعبیر خواب کی آنکھوں سے نیند روٹھ کے جانے کدھر گئیکٹتی نہیں ہے رات بھر زنجیر خواب کی جس شہر میں ہو خواب چرانے کی وارداتکیسے کروں وہاں پہ میں تشہیر خواب کی خوابوں نے ہر قدم پہ مجھے حوصلہ دیادیکھی نہیں ہے

کیسے بناؤں ہاتھ پر تصویر خواب کی Read More »

کتنی دور سے چلتے چلتے خواب نگر تک آئی ہوں

کتنی دور سے چلتے چلتے خواب نگر تک آئی ہوںپاؤں میں میں چھالے سہہ کر اپنے گھر تک آئی ہوں کالی رات کے سناٹے کو میں نے پیچھے چھوڑ دیاشب بھر تارے گنتے گنتے دیکھ سحر تک آئی ہوں لکھتے لکھتے لفظوں سے میری بھی کچھ پہچان ہوئیساری عمر کی پونجی لے کر آج ہنر

کتنی دور سے چلتے چلتے خواب نگر تک آئی ہوں Read More »

میں کئی برسوں سے تیری جستجو کرتی رہی

میں کئی برسوں سے تیری جستجو کرتی رہیاس سفر میں آرزوؤں کا لہو کرتی رہی کیا خبر تجھ کو گزاری کیسے میں نے شام غمآنسوؤں کا پانی لے کر میں وضو کرتی رہی جب تری یادوں نے مجھ کو نیم پاگل کر دیامیں تری تصویر سے ہی گفتگو کرتی رہی کس طرح اپنی تمناؤں کا

میں کئی برسوں سے تیری جستجو کرتی رہی Read More »

مرے پاؤں میں پائل کی وہی جھنکار زندہ ہے

مرے پاؤں میں پائل کی وہی جھنکار زندہ ہےمحبت کی کہانی میں مرا کردار زندہ ہے اسی کے نام سے ہر وقت میرا دل دھڑکتا ہےیں زندہ اس لیے ہوں کہ مرا دل دار زندہ ہوں جہاں کل ہر قدم پر مسکراہٹ رقص کرتی تھیمیں خوش ہوں آج بھی وہ رونق بازار زندہ ہے یہاں

مرے پاؤں میں پائل کی وہی جھنکار زندہ ہے Read More »

بے طلب کر کے ضرورت بھی چلی جائے اگر

بے طلب کر کے ضرورت بھی چلی جائے اگرڈر رہی ہوں کہ یہ وحشت بھی چلی جائے اگر شام ہوتے ہی ستاروں سے یہ پوچھا اکثرشام ہونے کی یہ صورت بھی چلی جائے اگر اک ترا درد سلیقے سے سنبھالا لیکندیدۂ تر سے طراوت بھی چلی جائے اگر یہ تو ہے خون جگر چاہئے لیکن

بے طلب کر کے ضرورت بھی چلی جائے اگر Read More »

ایک سناٹا سا تقریر میں رکھا گیا تھا

ایک سناٹا سا تقریر میں رکھا گیا تھاخواب ہی خواب کی تعبیر میں رکھا گیا تھا آگہی روز ڈراتی رہی منزل سے مگرحوصلہ پاؤں کی زنجیر میں رکھا گیا تھا کون بسمل تھا بتا ہی نہیں سکتا کوئیزخم دل سینۂ شمشیر میں رکھا گیا تھا ساز و آواز کے ملنے سے اثر ہونے لگاتیرا لہجہ

ایک سناٹا سا تقریر میں رکھا گیا تھا Read More »