MOJ E SUKHAN

تھوڑی سی اس طرف بھی نظر ہونی چاہئے

تھوڑی سی اس طرف بھی نظر ہونی چاہئے
یہ زندگی تو مجھ سے بسر ہونی چاہئے

آئے ہیں لوگ رات کی دہلیز پھاند کر
ان کے لئے نوید سحر ہونی چاہئے

اس درجہ پارسائی سے گھٹنے لگا ہے دم
میں ہوں بشر خطائے بشر ہونی چاہئے

وہ جانتا نہیں تو بتانا فضول ہے
اس کو مرے غموں کی خبر ہونی چاہئے

عطا الحق قاسمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم