MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وہ ایک شخص کہ منزل بھی راستا بھی ہے

وہ ایک شخص کہ منزل بھی راستا بھی ہے
وہی دعا بھی وہی حاصل دعا بھی ہے

میں اس کی کھوج میں نکلا ہوں ساتھ لے کے اسے
وہ حسن مجھ پہ عیاں بھی ہے اور چھپا بھی ہے

میں در بدر تھا مگر بھول بھول جاتا تھا
کہ اک چراغ دریچے میں جاگتا بھی ہے

کھلا ہے دل کا دریچہ اسی کی دستک پر
جو مجھ کو میری نگاہوں سے دیکھتا بھی ہے

یہ میری سرحد جاں میں قدم دھرا کس نے
کہ محو خواب ہوں آنکھوں میں رت جگا بھی ہے

اسے وہ بھولنے لگتا ہے جو اسے بھولے
عطاؔ کہ دل زدہ بھی اور سر پھرا بھی ہے

عطا الحق قاسمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم