MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

پتھروں کی بستی میں سائبان شیشے کا

پتھروں کی بستی میں سائبان شیشے کا
آؤ ہم بناتے ہیں اک مکان شیشے کا

میرے حوصلے دیکھو زندگی برتنے کو
سر پہ اوڑھ رکھا ہے آسمان شیشے کا

کیسے جھیل پائیں ہم درد کے سمندر کو
گر لگا ہو کشتی میں باد بان شیشے کا

ہر قدم پہ مشکل ہے ہجر کے مسافر کو
زندگی کا رستہ ہے پائدان شیشے کا

کرچیوں کے رستے پر آبلے ہیں پاؤں میں
زندگی نہ لے ہم سے امتحان شیشے کا

دیکھنا محبت سے توڑ ہی نہ دے کوئی
دل ترا ترنم ہے اک جہان شیشے کا

ترنم شبیر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم