MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

مجھ میں خوشبو بسی اسی کی ہے

مجھ میں خوشبو بسی اسی کی ہےجیسے یہ زندگی اسی کی ہے وہ کہیں آس پاس ہے موجودہو بہ ہو یہ ہنسی اسی کی ہے خود میں اپنا دکھا رہا ہوں دلاس میں لیکن خوشی اسی کی ہے یعنی کوئی کمی نہیں مجھ میںیعنی مجھ میں کمی اسی کی ہے کیا مرے خواب بھی نہیں […]

مجھ میں خوشبو بسی اسی کی ہے Read More »

نیند آتی ہے مگر خواب نہیں آتے ہیں

نیند آتی ہے مگر خواب نہیں آتے ہیںمجھ سے ملنے مرے احباب نہیں آتے ہیں شہر کی بھیڑ سے خود کو تو بچا لاتا ہوںگو سلامت مرے اعصاب نہیں آتے ہیں تشنگی دشت کی دریا کو ڈبو دے نہ کہیںاس لیے دشت میں سیلاب نہیں آتے ہیں ڈوبتے وقت سمندر میں مرے ہاتھ لگےوہ جواہر

نیند آتی ہے مگر خواب نہیں آتے ہیں Read More »

پھول کھلتے ہیں تالاب میں تارا ہوتا

پھول کھلتے ہیں تالاب میں تارا ہوتاکوئی منظر تو مری آنکھ میں پیارا ہوتا ہم پلٹ آئے مسافت کو مکمل کر کےاور بھی چلتے اگر ساتھ تمہارا ہوتا ہم محبت کو سمندر کی طرح جانتے ہیںکود ہی جاتے اگر کوئی کنارہ ہوتا ایک ناکام محبت ہی ہمیں کافی ہےہم دوبارہ بھی اگر کرتے خسارہ ہوتا

پھول کھلتے ہیں تالاب میں تارا ہوتا Read More »

ساتھ رونے نہ سہی گیت سنانے آتے

ساتھ رونے نہ سہی گیت سنانے آتےتم مصیبت میں مرا ہاتھ بٹانے آتے عمر بھر جاگ کے آنکھوں کی حفاظت کی ہےجانے کب لوگ مرے خواب چرانے آتے کھینچ لائی ہے ترے دشت کی وحشت ورنہکتنے دریا ہی مری پیاس بجھانے آتے ساتھ تو خیر نبھانا تمہیں آتا ہی نہیںکم سے کم راہ میں دیوار

ساتھ رونے نہ سہی گیت سنانے آتے Read More »

تھکن کا بوجھ بدن سے اتارتے ہیں ہم

تھکن کا بوجھ بدن سے اتارتے ہیں ہمیہ شام اور کہیں پر گزارتے ہیں ہم قدم زمین پہ رکھے ہمیں زمانہ ہواسو آسمان سے خود کو اتارتے ہیں ہم ہماری روح کا حصہ ہمارے آنسو ہیںانہیں بھی شوق اذیت پہ وارتے ہیں ہم ہماری آنکھ سے نیندیں اڑانے لگتا ہےجسے بھی خواب سمجھ کر پکارتے

تھکن کا بوجھ بدن سے اتارتے ہیں ہم Read More »

زخم اس زخم پہ تحریر کیا جائے گا

زخم اس زخم پہ تحریر کیا جائے گاکیا دوبارہ مجھے دلگیر کیا جائے گا اس کی آنکھوں میں کھڑا دیکھ رہا ہوں خود کوکون سے پل مجھے تسخیر کیا جائے گا میری آنکھوں میں کئی خواب ادھورے ہیں ابھیکیا مکمل انہیں تعبیر کیا جائے گا مجھ کو بیکار میں حیرت نے پکڑ رکھا ہےشہر تو

زخم اس زخم پہ تحریر کیا جائے گا Read More »

انہی گلیوں میں اک ایسی گلی ہے

انہی گلیوں میں اک ایسی گلی ہےجو میرے نام سے تنہا رہی ہے اب اس سے اور بھی شمعیں جلا لوسواد جاں میں اک مشعل جلی ہے ہمارے سر گئے سنگ حریفاںمے و مینا سے آفت ٹل گئی ہے میں بہر آزمائش بھی جلا ہوںکہ دیکھوں مجھ میں کتنی روشنی ہے الٰہی خیر ہو ان

انہی گلیوں میں اک ایسی گلی ہے Read More »

پھر جو دیکھا دور تک اک خامشی پائی گئی

پھر جو دیکھا دور تک اک خامشی پائی گئیمیں تو سمجھا تھا کہ اک میری ہی گویائی گئی پھر وہی بادل کہ جی اڑنے کو چاہے جن کے ساتھپھر وہی موسم کہ جب زنجیر پہنائی گئی پھر وہی طائر وہی ان کی غزل خوانی کے دنپھر وہی رت جس میں میری نغمہ پیرائی گئی کچھ

پھر جو دیکھا دور تک اک خامشی پائی گئی Read More »

روز اک شخص چلا جاتا ہے خواہش کرتا

روز اک شخص چلا جاتا ہے خواہش کرتاابھی آ جائے گا بادل کوئی بارش کرتا گھر سے نکلا تو جہاں زاد خدا اتنے تھےمیں انا زاد بھی کس کس کی پرستش کرتا ہم تو ہر لفظ میں جاناں تری تصویر ہوئےاس طرح کون سا آئینہ ستائش کرتا کسی وحشت زدہ آسیب کی مانند ہوں میںاک

روز اک شخص چلا جاتا ہے خواہش کرتا Read More »

سلامت آئے ہیں پھر اس کے کوچہ و در سے

سلامت آئے ہیں پھر اس کے کوچہ و در سےنہ کوئی سنگ ہی آیا نہ پھول ہی برسے میں آگہی کے عجب منصبوں پہ فائز ہوںکہ آپ اپنا ہی منکر ہوں اپنے اندر سے نہ جانے کس کو یہ اعزاز فن ملا ہوگاتمام شہر میں بکھرے ہوئے ہیں پتھر سے اب اس کے موج و

سلامت آئے ہیں پھر اس کے کوچہ و در سے Read More »