MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

پریشاں کرنے والوں کو پریشاں کون دیکھے گا

پریشاں کرنے والوں کو پریشاں کون دیکھے گاہمارے بعد یہ رنگ گلستاں کون دیکھے گا بجز میرے یہ دلچسپی کا ساماں کون دیکھے گاجلا کر دل کے داغوں کو چراغاں کون دیکھے گا کسے گلشن سے اتنا عشق ہے میری طرح گلچیںقفس میں رکھ کے تصویر گلستاں کون دیکھے گا اسے رنگیں اسے صد چاک […]

پریشاں کرنے والوں کو پریشاں کون دیکھے گا Read More »

دل چھوڑ کے ہر راہ گزر ڈھونڈھ رہا ہوں

دل چھوڑ کے ہر راہ گزر ڈھونڈھ رہا ہوںبیٹھے ہیں کہاں وہ میں کدھر ڈھونڈھ رہا ہوں وہ پیش نظر ہیں تو نظر کیوں نہیں آتےکیا میرا قصور اس میں اگر ڈھونڈھ رہا ہوں باریک نگاری کی تمنا تو ہے لیکنملتا نہیں مضمون کمر ڈھونڈھ رہا ہوں پھونکوں‌ گا نشیمن کی طرح اپنے اسے بھیاس

دل چھوڑ کے ہر راہ گزر ڈھونڈھ رہا ہوں Read More »

کیوں نہ ہم یاد کسی کو سحر و شام کریں

کیوں نہ ہم یاد کسی کو سحر و شام کریںہو نہ اتنا بھی محبت میں تو کیا کام کریں ہائے تربت پہ مری ناز سے کہنا ان کاآپ لیٹے ہوئے اب حشر تک آرام کریں اس زمانے میں ترے بادیہ پیما بھی عجبجم کے بیٹھیں جو کہیں مثل نگیں نام کریں کعبہ و دیر کا

کیوں نہ ہم یاد کسی کو سحر و شام کریں Read More »

تلخئ غم کا جو ہے مکمل جواب لا

تلخئ غم کا جو ہے مکمل جواب لایعنی شراب لا مرے ساقی شراب لا مٹ جائیں جس سے گردش دوراں کی تلخیاںوہ جام خوش گوار ملا کر گلاب لا وہ مے کہ جس سے ہر غم و اندوہ و یاس کاہو جائے حشر تک کے لیے سد باب لا پی کس قدر پیوں گا ابھی

تلخئ غم کا جو ہے مکمل جواب لا Read More »

بہت سکوں مجھے اغیار کی طرف سے ہے

بہت سکوں مجھے اغیار کی طرف سے ہےمگر یہ چھاؤں بھی دیوار کی طرف سے ہے تمام زخم میں پتّوں سے ڈھانپ سکتا ہوںیہ پیش کش مجھے اشجار کی طرف سے ہے نہ کوئی رنگ نہ خوشبو نہ تازگی صاحبیہ پھول کیا کسی بیمار کی طرف سے ہے تمام عمر لگا کر رکھوں گا سینے

بہت سکوں مجھے اغیار کی طرف سے ہے Read More »

گھٹن بڑھی تو ہوا کے خلاف بولیں گے

گھٹن بڑھی تو ہوا کے خلاف بولیں گےیہ لوگ یوں ہی خدا کے خلاف بولیں گے کسی کے ساتھ نہیں ہے مناظرہ اپناسو آج اپنی انا کے خلاف بولیں گے ہمارا تجربہ اچھا نہیں رہا، سو ہمتمام عمر وفا کے خلاف بولیں گے جھنیں گواہ میسر نہیں عدالت میںوہ لوگ کیسے سزا کے خلاف بولیں

گھٹن بڑھی تو ہوا کے خلاف بولیں گے Read More »

عدالتوں میں گواہی سے خوش نہیں لگتا

عدالتوں میں گواہی سے خوش نہیں لگتایہ شہر میری رہائی سے خوش نہیں لگتا سبھی کو وصل سے لذّت کشید کرنی ہےیہاں کوئی بھی جدائی سے خوش نہیں لگتا اڑا ہوا ہے پرندو کا رنگ جنگل میںیہ دشت بھی ترے بھائی سے خوش نہیں لگتا بجھا پڑا ہے سرِ شام طاقچے میں کہیںچراغ گھر کی

عدالتوں میں گواہی سے خوش نہیں لگتا Read More »

ختم خود اپنی زندگی کروں گا

ختم خود اپنی زندگی کروں گاوقت آنے پہ خودکشی کروں گا یہ اندھیرا مجھے پسند نہیںان مکانوں میں روشنی کروں گا مجھ سے تیرا ضرور پوچھے گیجس بھی لڑکی سے دوستی کروں گا جتنے آنسو ہیں میری پلکوں پرسب سمندر کو واپسی کروں گا گر نہ کچھ کر سکا محبت میںگھر بسا لوں گا نوکری

ختم خود اپنی زندگی کروں گا Read More »

پھول سے ہار بنا لیتے ہیں

پھول سے ہار بنا لیتے ہیںچل تجھے یار بنا لیتے ہیں گوند لیتے ہیں ذرا سی مٹیاورشہکار بنا لیتے ہیں بھائی ہر روز جھگڑتے کیوں ہوگھر میں دیوار بنا لیتے ہیں یوں بناتے ہیں ترے گرد حصارجس طرح خار بنا لیتے ہیں کیسی بھی شکل بنانی ہو ہمیںہم اداکار بنا لیتے ہیں رمزی آثم

پھول سے ہار بنا لیتے ہیں Read More »

کچھ اپنی فکر نہ اپنا خیال کرتا ہوں

کچھ اپنی فکر نہ اپنا خیال کرتا ہوںتو کیا یہ کم ہے تری دیکھ بھال کرتا ہوں مری جگہ پہ کوئی اور ہو تو چیخ اٹھےمیں اپنے آپ سے اتنے سوال کرتا ہوں اگر ملال کسی کو نہیں مرا نہ سہیمیں خود بھی کون سا اپنا ملال کرتا ہوں یہ چاند اور ستارے رفیق ہیں

کچھ اپنی فکر نہ اپنا خیال کرتا ہوں Read More »