MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

وہ جنگ میں نے محاذ انا پہ ہاری ہے

وہ جنگ میں نے محاذ انا پہ ہاری ہےلہو میں آج قیامت کی برف باری ہے مچا ہوا ہے بدن میں لہو کا واویلاکہیں سے کوئی کمک لاؤ زہر کاری ہے یہ دل ہے یا کسی آفت رسیدہ شہر کی راتکہ جتنا شور تھا اتنا سکوت طاری ہے صداقتیں ہیں عجب عشق کے قبیلہ کی!اسی […]

وہ جنگ میں نے محاذ انا پہ ہاری ہے Read More »

وہ شاخ گل کی طرح موسم طرب کی طرح

وہ شاخ گل کی طرح موسم طرب کی طرحمیں اپنے دشت میں تنہا چراغ شب کی طرح خیال و فکر کی سچائیاں بھی شامل ہیںمرے لہو میں مرے شجرۂ نسب کی طرح وہ اپنی خلوت جاں سے پکارتا ہے مجھےمیں چاہتا ہوں اسے حرف زیر لب کی طرح خوشا یہ دور کہ وہ بھی ہے

وہ شاخ گل کی طرح موسم طرب کی طرح Read More »

رنگ اب یوں تری تصویر میں بھرتا جاؤں

رنگ اب یوں تری تصویر میں بھرتا جاؤںتجھ پہ رنگ آئے میں جاں سے بھی گزرتا جاؤں وہ دیا ہوں کہ ہواؤں سے بھی ڈرتا جاؤںفرط پندار سے پھر رقص بھی کرتا جاؤں عجب آشوب دیا میرے خدا نے مجھ کواک تمنائے مسیحائی میں مرتا جاؤں مجھ کو جھٹلاتی رہیں وہ مری منکر آنکھیںاور میں

رنگ اب یوں تری تصویر میں بھرتا جاؤں Read More »

سفر کٹھن ہی سہی کیا عجب تھا ساتھ اس کا

سفر کٹھن ہی سہی کیا عجب تھا ساتھ اس کااندھیری رات میں میرا دیا تھا ہاتھ اس کا کچھ ایسی نیند سے جاگی کہ پھر نہ سوئی وہ آنکھجلا کیا یوں ہی کاجل تمام رات اس کا تمام شب وہ ستاروں سے گفتگو اس کیتمام شب وہ سمندر سا التفات اس کا کبھی وہ ربط

سفر کٹھن ہی سہی کیا عجب تھا ساتھ اس کا Read More »

وہ شاخ گل کہ جو آواز عندلیب بھی تھی

وہ شاخ گل کہ جو آواز عندلیب بھی تھیہوئی جو خشک تو میرے لیے صلیب بھی تھی دیار سنگ میں سر پھوڑتی پھری برسوںمری صدا کہ جو اس دور کی نقیب بھی تھی جو شمع دور تھی اس نے فقط دھواں ہی دیااسی کی لو سے جلا ہوں جو کچھ قریب بھی تھی سرشت حسن

وہ شاخ گل کہ جو آواز عندلیب بھی تھی Read More »

وہ تمام رنگ انا کے تھے وہ امنگ ساری لہو سے تھی

وہ تمام رنگ انا کے تھے وہ امنگ ساری لہو سے تھیوہ جو ربط ضبط گلوں سے تھا جو دعا سلام سبو سے تھی کوئی اور بات ہی کفر تھی کوئی اور ذکر ہی شرک تھاجو کسی سے وعدۂ دید تھا تو تمام شب ہی وضو سے تھی نہ کسی نے زخم کی داد دی

وہ تمام رنگ انا کے تھے وہ امنگ ساری لہو سے تھی Read More »

یوں تو لکھنے کے لئے کیا نہیں لکھا میں نے

یوں تو لکھنے کے لئے کیا نہیں لکھا میں نےپھر بھی جتنا تجھے چاہا نہیں لکھا میں نے یہ تو اک لہر میں کچھ رنگ جھلک آئے ہیںابھی مجھ میں ہے جو دریا نہیں لکھا میں نے میرے ہر لفظ کی وحشت میں ہے اک عمر کا عشقیہ کوئی کھیل تماشا نہیں لکھا میں نے

یوں تو لکھنے کے لئے کیا نہیں لکھا میں نے Read More »

ایک دو تو وہ نہیں سارے کے سارے دور ہیں

ایک دو تو وہ نہیں سارے کے سارے دور ہیںجو بہا لے جائیں مجھ کو ، عشق دھارے دور ہیں اس لئے چھوڑوں نہیں میں ان کناروں کو ابھیجس طرف جانا ہے مجھ کو ، وہ کنارے دور ہیں جو نگاہوں کے قریب اور میرے دل کے ہیں قریبچھونا چاہوں جو انھیں میں، وہ نظارے

ایک دو تو وہ نہیں سارے کے سارے دور ہیں Read More »

زندگی درد سے ملانے میں

زندگی درد سے ملانے میںکوئی کردار ہے فسانے میں آندھیاں بال کھولے پھرتی ہیںوہ بھی تعمیر کے زمانے میں پھر سمندر سکھا دیے ہم نےدشت سے دشت کو ملانے میں اور محبت کی سانس گُھٹنے لگیراز کھلنے لگا چُھپانے میں دلربا تو کُجا خدا تک بھیلوگ ماہر کئی بنانے میں خود بھی تقسیم ہو گئی

زندگی درد سے ملانے میں Read More »

مجھے دریافت کرنا چاہتے ہو اور ڈرتے ہو

مجھے دریافت کرنا چاہتے ہو اور ڈرتے ہوسنہری بات کرنا چاہتے ہو اور ڈرتے ہو یہی دو بول کافی ہیں محبت سے بھرے ہوں توانھیں خیرات کرنا چاہتے ہو اور ڈرتے ہو دیا بُجھتا نہیں ہے آرزو کے ساتھ جلتا ہےفروزاں ذات کرنا چاہتے ہو اور ڈرتے ہو قفس شوریدہ سر لوگوں کی پہلی راجدھانی

مجھے دریافت کرنا چاہتے ہو اور ڈرتے ہو Read More »