MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

انہی گلیوں میں اک ایسی گلی ہے

انہی گلیوں میں اک ایسی گلی ہے
جو میرے نام سے تنہا رہی ہے

اب اس سے اور بھی شمعیں جلا لو
سواد جاں میں اک مشعل جلی ہے

ہمارے سر گئے سنگ حریفاں
مے و مینا سے آفت ٹل گئی ہے

میں بہر آزمائش بھی جلا ہوں
کہ دیکھوں مجھ میں کتنی روشنی ہے

الٰہی خیر ہو ان بستیوں کی
پس دیوار اک پرچھائیں سی ہے

سواد شہر میں کوئی بلا ہے
جو وحشت بن کے پیچھا کر رہی ہے

ہوئی پھر شام پھر دن بھر کی شورش
گلی کوچوں میں چھپ کر سو گئی ہے

کچھ ایسے سو رہے ہیں شہر والے
کہ اک مدت میں نیند ان کو ملی ہے

یہ گھر سوتے کے سوتے ہی نہ رہ جائیں
ہوائے حشر ساماں چل رہی ہے

ہوئی پھر صبح زخموں کے افق سے
فضا پھر تازہ دم ہو کر اٹھی ہے

کسی قیدی کو پھر خوابوں سے اٹھ کر
کسی زنجیر نے آواز دی ہے

گھروں سے چند لمحوں کی رفاقت
بچھڑ کر شہر کی جانب چلی ہے

لہو رستا ہے دست شیشہ گر سے
فضا آئینہ خانہ بن گئی ہے

پھر اپنے دائرے قوسیں بنائے
وہی مٹی وہی کوزہ گری ہے

تم اس سے کیا بچو گے شوقؔ صاحب
کہ قسمت میں یہی گردش لکھی ہے

رضی اختر شوق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم