MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ستارے آنکھوں میں اب جھلملائے ہیں کیا کیا

ستارے آنکھوں میں اب جھلملائے ہیں کیا کیا
کہ جگنوؤں سے وہی جگمگائے ہیں کیا کیا

ہوئی ہے کیسے فضا آج ساری زہریلی
سیاستوں نے بھی فتنے جگائے ہیں کیا کیا

وہ کم نصیب ہے مظلوم ہے وہ عورت ہے
زمانے تونے ستم اس پہ ڈھائے ہیں کیا کیا

ہم اپنی سادہ دلی سے فریب کھاتے رہے
نشانے تو نے زمانے لگائے ہیں کیا کیا

تم اپنے ماؤں کی عظمت کا احترام کرو
تمہارے واسطے سپنے جلائے ہیں کیا کیا

انا کو مار دیا ظرف آزمایا ہے
خود اپنی ذات پہ پہرے لگائے ہیں کیا کیا

خدا کی لاٹھی میں آواز ہی نہیں ہوتی
جو ڈھیل دی تو سبق بھی سکھائے ہیں کیا کیا

اترتی شام میں ساحل پہ بیٹھ کر دیکھوں
سمندروں میں بھنور اب کے آئے ہیں کیا کیا

شہناز رحمت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم