MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

گزر گیا جو مرے دل پہ سانحہ بن کر

گزر گیا جو مرے دل پہ سانحہ بن کر
اتر گیا وہ مری روح میں خدا بن کر

ترا خیال شب ہجر پھیلتا ہی گیا
ہزار رنگ کی سوچوں کا سلسلہ بن کر

وفا کے سنگ سے ٹکرا کے احتجاج‌ انا
صلیب لب پہ سسکنے لگا دعا بن کر

بدن کے دشت میں من کی حسین صبحوں کو
نکل رہا ہے غم دہر اژدہا بن کر

کبھی تو دیپ جلیں گل کھلیں فضا مہکے
کبھی تو آ شب ویراں میں رتجگا بن کر

تمام عمر جسے ڈھونڈتے رہے عالؔی
کہیں ملا بھی اگر وہ تو فاصلہ بن کر

جلیل عالی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم