MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

لبوں تک آیا زباں سے مگر کہا نہ گیا

لبوں تک آیا زباں سے مگر کہا نہ گیافسانہ درد کا المختصر کہا نہ گیا حریم ناز میں کیا بات تھی جو راز رہیوہ حرف کیا تھا جو بار دگر کہا نہ گیا یہ حادثہ بھی عجب ہے کہ تیرے غم کے سواکسی بھی غم کو غم معتبر کہا نہ گیا نفس نفس میں تھا […]

لبوں تک آیا زباں سے مگر کہا نہ گیا Read More »

ملا ہے تپتا صحرا دیکھنے کو

ملا ہے تپتا صحرا دیکھنے کوچلے تھے گھر سے دریا دیکھنے کو چلو اپنا ہی منظر آپ دیکھیںکہاں جائیں تماشا دیکھنے کو سر مقتل کسے لایا گیا ہےچلی آتی ہے دنیا دیکھنے کو فسردہ پھول اڑتے زرد پتےچمن میں رہ گیا کیا دیکھنے کو ملی ہے مختصر سی فرصت دیدتماشا گاہ دنیا دیکھنے کو چراغ

ملا ہے تپتا صحرا دیکھنے کو Read More »

نگاہ ناز کا حاصل ہے اعتبار مجھے

نگاہ ناز کا حاصل ہے اعتبار مجھےہوائے شوق ذرا اور بھی نکھار مجھے کبھی زباں نہ کھلی عرض مدعا کے لیےکیا ہے پاس ادب نے بھی شرمسار مجھے پرانے زخم نئے داغ ساتھ ساتھ رہےملی تو کیسی ملی دعوت بہار مجھے پھر اہل ہوش کے نرغے میں آ گیا ہوں میںخدا کے واسطے اک بار

نگاہ ناز کا حاصل ہے اعتبار مجھے Read More »

صحن‌ چمن میں ہر سو پتھر

صحن‌ چمن میں ہر سو پتھرپھول تو پھول ہے خوشبو پتھر آج اک ایک کرن پتھرائیسورج تارے جگنو پتھر پتھرائے پتھرائے چہرےآنکھیں پتھر آنسو پتھر میری جانب ہر جانب سےآئے ہیں بے قابو پتھر راہ وفا پر چلنا مشکلہر سو کانٹے ہر سو پتھر اہل جفا سے ہاتھ ملاتےہو گئے میرے بازو پتھر اس ماحول

صحن‌ چمن میں ہر سو پتھر Read More »

سورج کے ساتھ ساتھ ابھارے گئے ہیں ہم

سورج کے ساتھ ساتھ ابھارے گئے ہیں ہمتاریکیوں میں پھر بھی اتارے گئے ہیں ہم راس آ سکی نہ ہم کو ہوا تیرے شہر کییوں تو قدم قدم پہ سنوارے گئے ہیں ہم کچھ قہقہوں کے ابر رواں نے دیا نکھارکچھ غم کی دھوپ سے بھی نکھارے گئے ہیں ہم ساحل سے رابطہ ہیں نہیں

سورج کے ساتھ ساتھ ابھارے گئے ہیں ہم Read More »

تنہائی میں اکثر یہی محسوس ہوا ہے

تنہائی میں اکثر یہی محسوس ہوا ہےجس طرح کوئی میری طرف دیکھ رہا ہے ڈھونڈا کوئی ساتھی جو کبھی دشت وفا میںاک اپنا ہی سایہ مجھے ہر بار ملا ہے سینے میں ہے محفوظ متاع غم دوراںدیباچئہ ایام مرے دل پہ لکھا ہے آہٹ سی شب غم جو تجھے دی ہے سنائیاے دل وہ ترے

تنہائی میں اکثر یہی محسوس ہوا ہے Read More »

زندہ رہنے کا وہ افسون عجب یاد نہیں

زندہ رہنے کا وہ افسون عجب یاد نہیںمیں وہ انساں ہوں جسے نام و نسب یاد نہیں میں خیالوں کے پری خانوں میں لہرایا ہوںمجھ کو بے چارگیٔ محفل شب یاد نہیں خواہشیں رستہ دکھا دیتی ہیں ورنہ یارودل وہ ذرہ ہے جسے شہر طلب یاد نہیں گرد سی باقی ہے اب ذہن کے آئینے

زندہ رہنے کا وہ افسون عجب یاد نہیں Read More »

بادل ہے اور پھول کھلے ہیں سبھی طرف

بادل ہے اور پھول کھلے ہیں سبھی طرفکہتا ہے دل کہ آج نکل جا کسی طرف تیور بہت خراب تھے سنتے ہیں کل ترےاچھا ہوا کہ ہم نے نہ دیکھا تری طرف جب بھی ملے ہم ان سے انہوں نے یہی کہابس آج آنے والے تھے ہم آپ کی طرف اے دل یہ دھڑکنیں تری

بادل ہے اور پھول کھلے ہیں سبھی طرف Read More »

ہر چند میرے حال سے وہ بے خبر نہیں

ہر چند میرے حال سے وہ بے خبر نہیںلیکن وہ بے کلی جو ادھر ہے ادھر نہیں آواز رفتگاں مجھے لاتی ہے اس طرفیہ راستہ اگرچہ مری رہ گزر نہیں چمکی تھی ایک برق سی پھولوں کے آس پاسپھر کیا ہوا چمن میں مجھے کچھ خبر نہیں کچھ اور ہو نہ ہو چلو اپنا ہی

ہر چند میرے حال سے وہ بے خبر نہیں Read More »

ہوتے ہیں جو سب کے وہ کسی کے نہیں ہوتے

ہوتے ہیں جو سب کے وہ کسی کے نہیں ہوتےاوروں کے تو کیا ہوں گے وہ اپنے نہیں ہوتے مل ان سے کبھی جاگتے ہیں جن کے مقدرتیری طرح ہر وقت وہ سوئے نہیں ہوتے دن میں جو پھرا کرتے ہیں ہشیار و خبرداروہ میری طرح رات کو جاگے نہیں ہوتے ہم ان کی طرف

ہوتے ہیں جو سب کے وہ کسی کے نہیں ہوتے Read More »