لبوں تک آیا زباں سے مگر کہا نہ گیا
لبوں تک آیا زباں سے مگر کہا نہ گیافسانہ درد کا المختصر کہا نہ گیا حریم ناز میں کیا بات تھی جو راز رہیوہ حرف کیا تھا جو بار دگر کہا نہ گیا یہ حادثہ بھی عجب ہے کہ تیرے غم کے سواکسی بھی غم کو غم معتبر کہا نہ گیا نفس نفس میں تھا […]
لبوں تک آیا زباں سے مگر کہا نہ گیا Read More »