MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اے بے خبری جی کا یہ کیا حال ہے کل سے

اے بے خبری جی کا یہ کیا حال ہے کل سے
رونے میں مزا ہے نہ بہلتا ہے غزل سے

اس شہر کی دیواروں میں ہے قید مرا غم
یہ دشت کی پہنائی میں ہیں یادوں کے جلسے

باتوں سے سوا ہوتی ہے کچھ وحشت دل اور
احباب پریشاں ہیں مرے طرز عمل سے

تنہائی کی یہ شام اداسی میں ڈھلی ہے
اٹھتا ہے دھواں پھر مرے خوابوں کے محل سے

راتوں کی ہے تقدیر ترا چاند سا چہرہ
نظروں میں ہے تصویر ترے نین کنول سے

یوسف ظفر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم