MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

تعمیر زندگی کو نمایاں کیا گیا

تعمیر زندگی کو نمایاں کیا گیاتخریب کائنات کا ساماں کیا گیا گلشن کی شاخ شاخ کو ویراں کیا گیایوں بھی علاج تنگیٔ داماں کیا گیا کھوئے ہوؤں پہ تیری نظر کی نوازشیںآئینہ دے کے اور بھی حیراں کیا گیا آوارگیٔ زلف سے آسودگی ملیآسودگی ملی کہ پریشاں کیا گیا وہ خوش نصیب ہوں کہ غم […]

تعمیر زندگی کو نمایاں کیا گیا Read More »

وہ میری جان ہے دل سے کبھی جدا نہ ہوا

وہ میری جان ہے دل سے کبھی جدا نہ ہواکہ اس کا غم ہی مری زیست کا بہا نہ ہوا نظر نے جھک کے کہا مجھ سے کیا دم رخصتمیں سوچتا ہوں کہ کس دل سے وہ روانہ ہوا نم صبا مئے مہتاب عطر زلف شمیموہ کیا گیا کہ کوئی کارواں روانہ ہوا وہ یاد

وہ میری جان ہے دل سے کبھی جدا نہ ہوا Read More »

یارو ہر غم غم یاراں ہے قریب آ جاؤ

یارو ہر غم غم یاراں ہے قریب آ جاؤپیارو پھر فصل بہاراں ہے قریب آ جاؤ دور ہو کر بھی سنیں تم نے حکایات وفاقرب میں بھی وہی عنواں ہے قریب آ جاؤ ہم محبت کے مسافر ہیں کہیں دیکھ نہ لیںدھات میں گردش دوراں ہے قریب آ جاؤ جان پیاری ہے کہ تم بھی

یارو ہر غم غم یاراں ہے قریب آ جاؤ Read More »

پھر ہنر مندوں کے گھر سے بے ہنر جاتا ہوں میں

پھر ہنر مندوں کے گھر سے بے ہنر جاتا ہوں میںتم خبر بے زار ہو اہل نظر جاتا ہوں میں جیب میں رکھ لی ہیں کیوں تم نے زبانیں کاٹ کرکس سے اب یہ اجنبی پوچھے کدھر جاتا ہوں میں ہاں میں سایہ ہوں کسی شے کا مگر یہ بھی تو دیکھگر تعاقب میں نہ

پھر ہنر مندوں کے گھر سے بے ہنر جاتا ہوں میں Read More »

روشنی بن کے ستاروں میں رواں رہتے ہیں

روشنی بن کے ستاروں میں رواں رہتے ہیںجسم افلاک میں ہم صورت جاں رہتے ہیں ہیں دل دہر میں ہم صورت امید نہاںمثل ایماں رخ ہستی پہ عیاں رہتے ہیں جو نہ ڈھونڈو تو ہمارا کوئی مسکن ہی نہیںاور دیکھو تو قریب رگ جاں رہتے ہیں ہر نفس کرتے ہیں اک طرفہ تماشا پیداہم سر

روشنی بن کے ستاروں میں رواں رہتے ہیں Read More »

آنکھوں میں کہیں اس کے بھی طوفاں تو نہیں تھا

آنکھوں میں کہیں اس کے بھی طوفاں تو نہیں تھاوہ مجھ سے جدا ہو کے پشیماں تو نہیں تھا کیوں مجھ سے نہ کی اس نے سر بزم کوئی باتمیں سنگ ملامت سے گریزاں تو نہیں تھا ہاں حرف تسلی کے لیے تھا میں پریشاںپہلو میں مرے دل تھا کہستاں تو نہیں تھا کیوں راستہ

آنکھوں میں کہیں اس کے بھی طوفاں تو نہیں تھا Read More »

بیٹھا ہوں وقف ماتم ہستی مٹا ہوا

بیٹھا ہوں وقف ماتم ہستی مٹا ہوازہر وفا ہے گھر کی فضا میں گھلا ہوا خود اس کے پاس جاؤں نہ اس کو بلاؤں پاسپایا ہے وہ مزاج کہ جینا بلا ہوا اس پر غلط ہے عشق میں الزام دشمنیقاتل ہے میرے حجلۂ‌‌ جاں میں چھپا ہوا ہیں جسم و جاں بہم یہ مگر کس

بیٹھا ہوں وقف ماتم ہستی مٹا ہوا Read More »

غم کی گرمی سے دل پگھلتے رہے

غم کی گرمی سے دل پگھلتے رہےتجربے آنسوؤں میں ڈھلتے رہے ایک لمحے کو تم ملے تھے مگرعمر بھر دل کو ہم مسلتے رہے صبح کے ڈر سے آنکھ لگ نہ سکیرات بھر کروٹیں بدلتے رہے زہر تھا زندگی کے کوزے میںجانتے تھے مگر نگلتے رہے دل رہا سر خوشی سے بیگانہگرچہ ارماں بہت نکلتے

غم کی گرمی سے دل پگھلتے رہے Read More »

میں عالم امکاں میں جسے ڈھونڈ رہا ہوں

میں عالم امکاں میں جسے ڈھونڈ رہا ہوںوہ پوچھ رہا ہے کہ کسے ڈھونڈ رہا ہوں ماضی کے بیاباں میں جو گم ہو گیا مجھ سےمیں حال کے جنگل میں اسے ڈھونڈ رہا ہوں گو پیش نظر ایک تماشہ ہے ولیکناے وجہ تماشہ میں تجھے ڈھونڈ رہا ہوں تو ہاتھ جو آتا نہیں اس کا

میں عالم امکاں میں جسے ڈھونڈ رہا ہوں Read More »

سنگ در اس کا ہر اک در پہ لگا ملتا ہے

سنگ در اس کا ہر اک در پہ لگا ملتا ہےدل کو آوارہ مزاجی کا مزا ملتا ہے جو بھی گل ہے وہ کسی پیرہن گل پر ہےجو بھی کانٹا ہے کسی دل میں چبھا ملتا ہے شوق وہ دام کہ جو رخصت پرواز نہ دےدل وہ طائر کہ اسے یوں بھی مزا ملتا ہے

سنگ در اس کا ہر اک در پہ لگا ملتا ہے Read More »