MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وہ میری جان ہے دل سے کبھی جدا نہ ہوا

وہ میری جان ہے دل سے کبھی جدا نہ ہوا
کہ اس کا غم ہی مری زیست کا بہا نہ ہوا

نظر نے جھک کے کہا مجھ سے کیا دم رخصت
میں سوچتا ہوں کہ کس دل سے وہ روانہ ہوا

نم صبا مئے مہتاب عطر زلف شمیم
وہ کیا گیا کہ کوئی کارواں روانہ ہوا

وہ یاد یاد میں جھلکا ہے آئنے کی طرح
اس آئنہ میں کبھی اپنا سامنا نہ ہوا

وہ چند ساعتیں جو اس کے ساتھ گزری ہیں
انہی کا دور رہا اور جاودانہ ہوا

میں اس کے ہجر کی تاریکیوں میں ڈوبا تھا
وہ آیا گھر میں مرے اور چراغ خانہ ہوا

وہ لوٹ آیا ہے یا میری خود فریبی ہے
نگاہ کہتی ہے دیکھے اسے زمانہ ہوا

میں اپنے درد کی نسبت کو دل سمجھتا ہوں
قفس جو ٹوٹ گیا میرا آشیانہ ہوا

اسی کی یاد ہے سرمایۂ حیات ظفرؔ
نہیں تو میرا ہے کیا میں ہوا ہوا نہ ہوا

یوسف ظفر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم