MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

روشنی بن کے ستاروں میں رواں رہتے ہیں

روشنی بن کے ستاروں میں رواں رہتے ہیں
جسم افلاک میں ہم صورت جاں رہتے ہیں

ہیں دل دہر میں ہم صورت امید نہاں
مثل ایماں رخ ہستی پہ عیاں رہتے ہیں

جو نہ ڈھونڈو تو ہمارا کوئی مسکن ہی نہیں
اور دیکھو تو قریب رگ جاں رہتے ہیں

ہر نفس کرتے ہیں اک طرفہ تماشا پیدا
ہم سر دار بھی تزئیں جہاں رہتے ہیں

اور بھی اہل نظر ہیں کبھی دیکھو تو سہی
ہم بھی اس شہر میں اے کم نظراں رہتے ہیں

دل کی دھڑکن سے ملا ان کا پتہ کچھ ہم کو
کس کو معلوم تھا ورنہ وہ کہاں رہتے ہیں

وسعت دشت نہیں راس چمن زادوں کو
ہم ترے شہر کی جانب نگراں رہتے ہیں

اشک گرتے ہیں تو کچھ دل کو سکوں ملتا ہے
ہائے وہ لوگ جو محروم فغاں رہتے ہیں

زندگی بھر کا ہے احباب سے اس دشت میں ساتھ
مثل جاں رہتے ہیں ہم عرشؔ جہاں رہتے ہیں

عرش صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم