غزل
تیرا ہر رنگ ستم اے شعلہ رو اچھا لگا
جتنے تو نے غم دئے اتنا ہی تو اچھا لگا
صرف اتنا ہی نہیں وہ ماہرو اچھا لگا
اس کا لہجہ اس کا طرز گفتگو اچھا لگا
میری جانب اس نے دیکھا اس نگاہ خاص سے
مجھ کو اپنے روبرو خالی سبو اچھا لگا
برہمی کی آگ میں دل کو جلا دینے کے بعد
مسکرائی جب وہ چشم جنگ جو اچھا لگا
کر گئی اس کی نگاہ اولیں قصہ تمام
پھر زمانے میں نہ کوئی خوبرو اچھا لگا
اس کی محفل میں ہوا جب کچھ حسیں چہروں کا ذکر
آئنہ اس وقت اس کے روبرو اچھا لگا
وسوسے جاگے تھے اس کو دیکھ کر خنجر بکف
جب وہی خنجر ہوا زیب گلو اچھا لگا
کوئی لمحہ زندگی کا درد سے خالی نہ تھا
کیسے کہہ دیتا جہان رنگ و بو اچھا لگا
کتنی آسانی سے اے شاداںؔ قیامت ٹل گئی
اس کو میرا عہد ترک آرزو اچھا لگا
شاداں بدایونی