MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تیرا ہر رنگ ستم اے شعلہ رو اچھا لگا

غزل

تیرا ہر رنگ ستم اے شعلہ رو اچھا لگا
جتنے تو نے غم دئے اتنا ہی تو اچھا لگا

صرف اتنا ہی نہیں وہ ماہرو اچھا لگا
اس کا لہجہ اس کا طرز گفتگو اچھا لگا

میری جانب اس نے دیکھا اس نگاہ خاص سے
مجھ کو اپنے روبرو خالی سبو اچھا لگا

برہمی کی آگ میں دل کو جلا دینے کے بعد
مسکرائی جب وہ چشم جنگ جو اچھا لگا

کر گئی اس کی نگاہ اولیں قصہ تمام
پھر زمانے میں نہ کوئی خوبرو اچھا لگا

اس کی محفل میں ہوا جب کچھ حسیں چہروں کا ذکر
آئنہ اس وقت اس کے روبرو اچھا لگا

وسوسے جاگے تھے اس کو دیکھ کر خنجر بکف
جب وہی خنجر ہوا زیب گلو اچھا لگا

کوئی لمحہ زندگی کا درد سے خالی نہ تھا
کیسے کہہ دیتا جہان رنگ و بو اچھا لگا

کتنی آسانی سے اے شاداںؔ قیامت ٹل گئی
اس کو میرا عہد ترک آرزو اچھا لگا

شاداں بدایونی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم