MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

نہیں اب روک پائے گی فصیل شہر پانی کو

نہیں اب روک پائے گی فصیل شہر پانی کوبہائے جا رہی ہے روشنی کی لہر پانی کو مجھے بھی سرخ کرتی ہے یہ مشعل میری آنکھوں کیکہ جیسے سبز کرتا ہے ضیا کا زہر پانی کو کسی بے نام سیارے پہ اب بھی ابر چھایا ہےترستا ہے کئی دن سے اگرچہ دہر پانی کو بہت […]

نہیں اب روک پائے گی فصیل شہر پانی کو Read More »

نمود پاتے ہیں منظروں کی شکست سے فتح کے بہانے

نمود پاتے ہیں منظروں کی شکست سے فتح کے بہانےچراغ زندہ کیا ہے میرا گلی میں دم توڑتی ہوا نے یہ جانتے ہیں کہ سامنے ہے گریز کرتی ہوئی محبتمگر مرے ساتھ چل رہے ہیں وہی مظاہر وہی زمانے مسافروں کے لیے تو یکساں ہے دشت اور شہر سے گزرناکہ شام ہوتے ہی تان لیتے

نمود پاتے ہیں منظروں کی شکست سے فتح کے بہانے Read More »

چراغِ طاقِ ابد جل رہا ہے میرے ساتھ

چراغِ طاقِ ابد جل رہا ہے میرے ساتھمرے سوا بھی کوئی چل رہا ہے میرے ساتھ جمی ہے ساعتِ آئندہ پر نگاہ مریکہ میرا عصر بھی اب ڈھل رہا ہے میرے ساتھ میں اپنی قید سے آزاد ہو نہیں پایامرے وجود کا مقتل رہا ہے میرے ساتھ خبر کسی کو نہیں ہے کہ میرا ماضی

چراغِ طاقِ ابد جل رہا ہے میرے ساتھ Read More »

رُکا ہوں کس کے وہم میں، مرے گمان میں نہیں

رُکا ہوں کس کے وہم میں، مرے گمان میں نہیںچراغ جل رہا ہے اور کوئی مکان میں نہیں​ وہ طائرِ نگاہ بھی سفر میں ساتھ ہے مرےکہ جس کا ذکر تک ابھی کسی اڑان میں نہیں​ مری طلب مرے لیے ملال چھوڑ کر گئی!جو شے مجھے پسند ہے، وہی دکان میں نہیں​ کوئی عجیب خواب

رُکا ہوں کس کے وہم میں، مرے گمان میں نہیں Read More »

زمین میری رہے گی نہ آئنہ میرا

زمین میری رہے گی نہ آئنہ میراکہ آزمانے چلا ہے مجھے خدا میرا مرے طلسم سے آزاد بھی نہیں لیکنوہ پھول پہلی نظر میں ہوا نہ تھا میرا نعیم بصرہ و بغداد ہارنے کے بعدمرا وجود بھی شاید نہیں رہا میرا وہ میرے پاس رہے یا کہیں چلا جائےرہے گا اس کے خیالوں سے سلسلہ

زمین میری رہے گی نہ آئنہ میرا Read More »

سر پر کسی غریب کے ناچار گر پڑے

سر پر کسی غریب کے ناچار گر پڑےممکن ہے میرے صبر کی دیوار گر پڑے کیا خوب سرخ رو ہوئے ہم کار عشق میںدو چار کام آ گئے دو چار گر پڑے اس بار جب اجل سے مرا سامنا ہواکشتی سے خواب ہاتھ سے پتوار گر پڑے روشن کوئی چراغ نہیں نخل طور پرسجدے میں

سر پر کسی غریب کے ناچار گر پڑے Read More »

دیار خواب کو نکلوں گا سر اٹھا کر میں

دیار خواب کو نکلوں گا سر اٹھا کر میںکہ شاد رہتا ہوں رنج سفر اٹھا کر میں چراغ جل نہ سکے گا جو اس کی آنکھوں میںدھروں گا اس کو کسی طاق پر اٹھا کر میں سنا ہے تخت مقدر سے ہاتھ آتا ہےخجل ہوں راحت تیغ و سپر اٹھا کر میں چلے جو سرو

دیار خواب کو نکلوں گا سر اٹھا کر میں Read More »

حاصل کسی سے نقد حمایت نہ کر سکا

حاصل کسی سے نقد حمایت نہ کر سکامیں اپنی سلطنت پہ حکومت نہ کر سکا ہر رنگ میں رقیب زر نام و ننگ ہوںمیں وہ ہوں جو کسی سے محبت نہ کر سکا گھلتا رہا ہے میری رگوں میں بھی کوئی زہرلیکن میں اس دیار سے ہجرت نہ کر سکا پڑتا نہیں کسی کے بچھڑنے

حاصل کسی سے نقد حمایت نہ کر سکا Read More »

جست بھرتا ہوا فردا کے دہانے کی طرف

جست بھرتا ہوا فردا کے دہانے کی طرفجا نکلتا ہوں کسی اور زمانے کی طرف آنکھ بیدار ہوئی کیسی یہ پیشانی پرکیسا دروازہ کھلا آئینہ خانے کی طرف خود ہی انجام نکل آئے گا اس واقعے سےایک کردار روانہ ہے فسانے کی طرف حل نکلتا ہے یہی رشتوں کی مسماری کالوگ آ جاتے ہیں دیوار

جست بھرتا ہوا فردا کے دہانے کی طرف Read More »

اس سے آگے تو بس لا مکاں رہ گیا

اس سے آگے تو بس لا مکاں رہ گیایہ سفر بھی مرا رائیگاں رہ گیا ہو گئے اپنے جسموں سے بھی بے نیازاور پھر بھی کوئی درمیاں رہ گیا راکھ پوروں سے جھڑتی گئی عمر کیسانس کی نالیوں میں دھواں رہ گیا اب تو رستہ بتانے پہ مامور ہوںبے ہدف تیر تھا بے کماں رہ

اس سے آگے تو بس لا مکاں رہ گیا Read More »