نہیں اب روک پائے گی فصیل شہر پانی کو
نہیں اب روک پائے گی فصیل شہر پانی کوبہائے جا رہی ہے روشنی کی لہر پانی کو مجھے بھی سرخ کرتی ہے یہ مشعل میری آنکھوں کیکہ جیسے سبز کرتا ہے ضیا کا زہر پانی کو کسی بے نام سیارے پہ اب بھی ابر چھایا ہےترستا ہے کئی دن سے اگرچہ دہر پانی کو بہت […]
نہیں اب روک پائے گی فصیل شہر پانی کو Read More »