MOJ E SUKHAN

صلح کے بعد محبت نہیں کر سکتا میں

صلح کے بعد محبت نہیں کر سکتا میں
مختصر یہ کہ وضاحت نہیں کر سکتا میں

دل ترے ہجر میں سرشار ہوا پھرتا ہے
اب کسی دشت میں وحشت نہیں کر سکتا میں

میرے چہرے پہ ہیں آنکھیں مرے سینے میں ہے دل
اس لیے تیری حفاظت نہیں کر سکتا میں

ہر طرف تو نظر آتا ہے جدھر جاتا ہوں
تیرے امکان سے ہجرت نہیں کر سکتا میں

اتنا ترسایا گیا مجھ کو محبت سے کہ اب
اک محبت پہ قناعت نہیں کر سکتا میں

اپنا ایماں بھی تجھے سونپ دیا ہے انجمؔ
اس سے بڑھ کر تو سخاوت نہیں کر سکتا میں

انجم سلیمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم