MOJ E SUKHAN

سحر کو کھوج چراغوں پہ انحصار نہ کر

سحر کو کھوج چراغوں پہ انحصار نہ کر
ہوا سے دوستی رکھ اس کا اعتبار نہ کر

یقین کر او محبت یہی مناسب ہے
زیادہ دن مری صحبت کو اختیار نہ کر

یہ کوئی رشتہ نہیں ہے فقط ندامت ہے
تو مجھ سے عمر میں کم ہے سو مجھ سے پیار نہ کر

مجھے پتہ ہے کہ برباد ہو چکا ہوں میں
تو میرا سوگ منا مجھ کو سوگوار نہ کر

ہے کون کون مرے ساتھ اس مصیبت میں
میں اپنے ساتھ نہیں ہوں مجھے شمار نہ کر

میں خاک خود تجھے لبیک کہنے والوں میں
مجھے بلاوا نہ دے میرا انتظار نہ کر

انجم سلیمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم