MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

میں نے ہر غم دل صد چاک سے باہر رکھا

میں نے ہر غم دل صد چاک سے باہر رکھاآگ کو پیرہن خاک سے باہر رکھا زیب تن ہم نے بھی کر رکھی یہ دنیا لیکنتیرے ہر رنگ کو پوشاک سے باہر رکھا خواب در خواب تجھے ڈھونڈنے والوں نے بھی ابنیند کو دیدۂ نمناک سے باہر رکھا اک طرح دھیان ہی ایسا کہ جسے […]

میں نے ہر غم دل صد چاک سے باہر رکھا Read More »

جو زندگی کے ہر ایک دھارے میں جاگتا ہے

جو زندگی کے ہر ایک دھارے میں جاگتا ہےترا بدن اس چراغ پارے میں جاگتا ہے گریز کیسے کرے گا میرے وجود سے توکہ تیرا سورج مرے ستارے میں جاگتا ہے مجھے خبر ہے خموش سویا ہوا یہ دریاکہیں کسی دوسرے کنارے میں جاگتا ہے بہت کٹھن تو نہیں ہے سچ کو تلاش کرناکہ یہ

جو زندگی کے ہر ایک دھارے میں جاگتا ہے Read More »

انا کا نشہ خودی کا خمار ٹوٹتا ہے

انا کا نشہ خودی کا خمار ٹوٹتا ہےمحبتوں میں خود اپنا حصار ٹوٹتا ہے کوئی تو ہے جو در خیمۂ محبت پرجبیں جھکائے بصد افتخار ٹوٹتا ہے عجیب نشۂ احساس کی گرفت میں ہوںترے قریب جو آؤں خمار ٹوٹتا ہے میں اس لہو میں سے ہوں جس کا ایک اک قطرہفصیل ظلم پہ دیوانہ وار

انا کا نشہ خودی کا خمار ٹوٹتا ہے Read More »

علم بدست کہیں آئنہ بکف ہوں میں

علم بدست کہیں آئنہ بکف ہوں میںترے خلاف ہر اک سمت صف بہ صف ہوں میں مجھے تلاش نہ کر تو کہ اک زمانہ ہواکتاب عشق کے ہر باب سے حذف ہوں میں ہزار بھیس بدلتا رہوں مگر اس پارکسی چمکتی ہوئی آنکھ کا ہدف ہوں میں بدلتا رہتا ہوں ہر لمحہ اپنے خد و

علم بدست کہیں آئنہ بکف ہوں میں Read More »

عجیب دکھ ہے لبوں پر گلا کوئی بھی نہ تھا

عجیب دکھ ہے لبوں پر گلا کوئی بھی نہ تھابچھڑتے وقت کسی سے خفا کوئی بھی نہ تھا ہر ایک شخص کو سچے حروف ازبر تھےکسی کے پاس مگر معجزہ کوئی بھی نہ تھا بہ نام حسن سبھی گفتگو کمال کی تھییہ اور بات سر آئنہ کوئی بھی نہ تھا عذاب ذہن تھی اک مہر

عجیب دکھ ہے لبوں پر گلا کوئی بھی نہ تھا Read More »

لرزتے ٹوٹتے گرتے ہوئے جہاں سے نکل

لرزتے ٹوٹتے گرتے ہوئے جہاں سے نکلزیادہ خوف زدہ ہے تو اس مکاں سے نکل ہمارے دل کا تعلق نہیں زمانے سےسو اپنی خواہش دنیا اٹھا یہاں سے نکل ترے جمال کی لو تیرے بعد رہ جائےدیے جلاتا ہوا اس جہان جاں سے نکل میں رب کے نور سے محو کلام ہوں سر شامسوئے چراغ

لرزتے ٹوٹتے گرتے ہوئے جہاں سے نکل Read More »

اے لب گرفتگی، وہ سمجھتے ہیں پیاس ہے

اے لب گرفتگی، وہ سمجھتے ہیں پیاس ہےیہ خستگی تو اہلِ رضا کا لباس ہے اے تشنگی، یہ حُسنِ محبت کے رنگ ہیںاے چشمِ نم، یہ قافلۂ اہلِ یاس ہے یہ عشق ہے کہ وسعتِ آفاقِ کربلایہ عقل ہے کہ گوشۂ دشتِ قیاس ہے سایہ ہے سر پہ چادرِ صبر و صلوٰہ کابادل کی آرزور

اے لب گرفتگی، وہ سمجھتے ہیں پیاس ہے Read More »

جو پیاس وسعت میں بے کراں ہے سلام اس پر

جو پیاس وسعت میں بے کراں ہے سلام اس پرفرات جس کی طرف رواں ہے سلام اس پر سبھی کنارے اسی کی جانب کریں اشارےجو کشتیٔ حق کا بادباں ہے سلام اس پر جو پھول تیغِ اصول سے ہر خزاں کو کاٹیںوہ ایسے پھولوں کا پاسباں ہے سلام اس پر مری زمینوں کو اب نہیں

جو پیاس وسعت میں بے کراں ہے سلام اس پر Read More »

صحن‌ چمن ہے گوشۂ زنداں ترے بغیر

صحن‌ چمن ہے گوشۂ زنداں ترے بغیرمعمورۂ حیات ہے ویراں ترے بغیر چھپ چھپ کے جس کو دیکھنے آتا تھا ماہتابظلمت کدہ ہے اب وہ شبستاں ترے بغیر جلتا ہے چارہ ساز کی نادانیوں پہ جیمیں اور میرے درد کا درماں ترے بغیر سوتی ہیں اس میں کتنی امیدیں فنا کی نیندسینہ ہے ایک شہر

صحن‌ چمن ہے گوشۂ زنداں ترے بغیر Read More »

جہاں عہد تمنا ختم ہو جائے

جہاں عہد تمنا ختم ہو جائےعذاب جاودانی زندگی ہے رلاتی ہے مجھے کیوں چاندنی راتیہی اک راز میری زندگی ہے خلش ہو درد ہو کاہش ہو کچھ ہوفقط جینا بھی کوئی زندگی ہے ہلاک انجام تکمیل تمنابقائے آرزو ہی زندگی ہے جگر میں ٹیس لب ہنسنے پہ مجبورکچھ ایسی ہی ہماری زندگی ہے وہ چاہے

جہاں عہد تمنا ختم ہو جائے Read More »