میں نے ہر غم دل صد چاک سے باہر رکھا
میں نے ہر غم دل صد چاک سے باہر رکھاآگ کو پیرہن خاک سے باہر رکھا زیب تن ہم نے بھی کر رکھی یہ دنیا لیکنتیرے ہر رنگ کو پوشاک سے باہر رکھا خواب در خواب تجھے ڈھونڈنے والوں نے بھی ابنیند کو دیدۂ نمناک سے باہر رکھا اک طرح دھیان ہی ایسا کہ جسے […]
میں نے ہر غم دل صد چاک سے باہر رکھا Read More »