MOJ E SUKHAN

عجیب دکھ ہے لبوں پر گلا کوئی بھی نہ تھا

عجیب دکھ ہے لبوں پر گلا کوئی بھی نہ تھا
بچھڑتے وقت کسی سے خفا کوئی بھی نہ تھا

ہر ایک شخص کو سچے حروف ازبر تھے
کسی کے پاس مگر معجزہ کوئی بھی نہ تھا

بہ نام حسن سبھی گفتگو کمال کی تھی
یہ اور بات سر آئنہ کوئی بھی نہ تھا

عذاب ذہن تھی اک مہر آب و دانے پر
ترے نگر میں خوشی سے رہا کوئی بھی نہ تھا

پس ضمیر عدالت سبھی کو حاصل تھی
مگر بوقت ضرورت کھرا کوئی بھی نہ تھا

قمر رضا شہزاد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم