ہوا ،چراغ ،اندھیرا، چرا کے لے آیا
میں زندگی کا کنارہ اٹھا کے لے آیا
چمک رہا تھا کہیں عرش پر ستارہ مرا
یہ کون عشق وہاں پر بلا کے لے آیا
بہت کشش تھی کہانی میں اس کے ہونے سے
غریب شہر کے بچے سنا کے لے آیا
اسے زمیں پہ ضرورت تھی زندہ لوگوں کی
سو اپنے ساتھ وہ دنیا اٹھا کے لے آیا
حقیقتوں سے جڑی تھی ترے خیال کی لو
زوالِ وقت کی ذد سے بچا کے لے آیا
حدودِ عشق میں رہتا تو کب تلک آخر
حدودِ عشق کو اپنی بڑھا کے لے آیا
,ہر ایک چہرہ مکمل تھا اپنی اپنی جگہ
پس خیال ادھورے دکھا کے لے آیا
غمِ حیات کے تیور نہ آسکے غالب
رضا میں زخم کو چھالا بنا کے لے آیا
حسن رضا