MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دل یار کا تخت ہوا ہی نہیں

غزل

دل یار کا تخت ہوا ہی نہیں
جیون خوش بخت ہوا ہی نہیں

اسے توڑنا بھی تو نرمی سے
یہ دل کبھی سخت ہوا ہی نہیں

آنکھوں نے بہت اصرار کیا
سپنا دو لخت ہوا ہی نہیں

ہم ہنس کر اسے رلا دیتے
وہ اور کرخت ہوا ہی نہیں

تجھ شہر تجھے ہم آ ملتے
کوئی ساز و رخت ہوا ہی نہیں

ہم چھاؤں بچھاتے دور تلک
کوئی حرف درخت ہوا ہی نہیں

مٹی کے مادھو رہے سدا
ہم سا کج بخت ہوا ہی نہیں

عامر سہیل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم