اب یہ صفت جہاں میں نایاب ہو گئی ہے
غزل اب یہ صفت جہاں میں نایاب ہو گئی ہے ململ بدن پہ اس کے کمخواب ہو گئی ہے کوئی پتہ دے اس کو میری کتاب جاں کا دنیا کے ساتھ وہ بھی اک باب ہو گئی ہے پھولوں بھری زمیں ہو خوشبو بھری ہوں سانسیں یہ آرزو بھی میری کیا خواب ہو گئی ہے […]
اب یہ صفت جہاں میں نایاب ہو گئی ہے Read More »