MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اب یہ صفت جہاں میں نایاب ہو گئی ہے

غزل اب یہ صفت جہاں میں نایاب ہو گئی ہے ململ بدن پہ اس کے کمخواب ہو گئی ہے کوئی پتہ دے اس کو میری کتاب جاں کا دنیا کے ساتھ وہ بھی اک باب ہو گئی ہے پھولوں بھری زمیں ہو خوشبو بھری ہوں سانسیں یہ آرزو بھی میری کیا خواب ہو گئی ہے […]

اب یہ صفت جہاں میں نایاب ہو گئی ہے Read More »

ہونٹ کھلیں تو نکلے واہ

غزل ہونٹ کھلیں تو نکلے واہ دنیا ایک تماشا گاہ رشک فلک ہے یہ بستی ہر چہرہ ہے مہر و ماہ اب کے ہاتھ وہ کھیلا ہے داؤں پر ہیں عز و جاہ رنگ بہت سے اور بھی ہیں ہر شے کب ہے سفید و سیاہ ساتھ کسی کو چلنا ہے سوجھ گئی ہے مجھ

ہونٹ کھلیں تو نکلے واہ Read More »

تری نسبت سے اپنی ذات کا ادراک کرنے میں

غزل تری نسبت سے اپنی ذات کا ادراک کرنے میں بہت عرصہ لگا ہے پیرہن کو چاک کرنے میں تری بستی کے باشندے بہت آسودہ خاطر ہیں تکلف ہو رہا ہے درد کو پوشاک کرنے میں ہم اپنے جسم کا سونا سفر پر لے کے نکلے ہیں مگر ڈرتے ہیں اس کو راستوں کی خاک

تری نسبت سے اپنی ذات کا ادراک کرنے میں Read More »

کوئی کچھ بتائے گا کیا ہو گیا

غزل کوئی کچھ بتائے گا کیا ہو گیا یہاں کیسے ہر بت خدا ہو گیا تذبذب کا عالم رہا دیر تک بالآخر میں اس سے جدا ہو گیا اسے کیا مجھے بھی نہیں تھی خبر کہ میں قید سے کب رہا ہو گیا زمیں پیاس سے اتنی بے حال تھی سمندر نے دیکھا گھٹا ہو

کوئی کچھ بتائے گا کیا ہو گیا Read More »

اس کے پرتو سے ہوا ہے زعفرانی رنگ کا

غزل اس کے پرتو سے ہوا ہے زعفرانی رنگ کا آئینہ تو آج بھی ہے کہکشانی رنگ کا ہجر کے بادل چھٹے تو وصل کی تقویم میں دل ہویدا ہو رہا ہے گلستانی رنگ کا پیرہن اس کا ہے ایسا یا جھلکتا ہے بدن اک پری وش رقص میں ہے ارغوانی رنگ کا آج کی

اس کے پرتو سے ہوا ہے زعفرانی رنگ کا Read More »

ہوائے شام نہ جانے کہاں سے آتی ہے

غزل ہوائے شام نہ جانے کہاں سے آتی ہے وہاں گلاب بہت ہیں جہاں سے آتی ہے یہ کس کا چہرہ دمکتا ہے میری آنکھوں میں یہ کس کی یاد مجھے کہکشاں سے آتی ہے اسی فلک سے اترتا ہے یہ اندھیرا بھی یہ روشنی بھی اسی آسماں سے آتی ہے یہ کس نے خاک

ہوائے شام نہ جانے کہاں سے آتی ہے Read More »

کیا سنے کوئی زبانی میری

غزل کیا سنے کوئی زبانی میری اور پھر وہ بھی کہانی میری شہر صحرا کی طرح لگتا ہے رائیگاں نقل مکانی میری ایک چہرہ مرے چہرے سے الگ ایک تصویر پرانی میری میں کہ دریا تھا جو اب ساکت ہوں کھو گئی مجھ میں روانی میری رات شبنم میں بہت بھیگا تھا دیکھ اب شعلہ

کیا سنے کوئی زبانی میری Read More »

زمین بارہا بدلی زماں نہیں بدلا

غزل زمین بارہا بدلی زماں نہیں بدلا اسی لیے تو یہ میرا جہاں نہیں بدلا نہ آرزو کوئی بدلی نہ میری محرومی بدل گیا ہے رویہ سماں نہیں بدلا اداسی آج بھی ویسی ہے جیسے پہلے تھی مکیں بدلتے رہے ہیں مکاں نہیں بدلا کبھی چراغ کبھی دل جلا کے دیکھ لیا ذرا سا رنگ

زمین بارہا بدلی زماں نہیں بدلا Read More »

اپنے بعد حقیقت یا افسانہ چھوڑا تھا

غزل اپنے بعد حقیقت یا افسانہ چھوڑا تھا پھول کھلے تھے میں نے جب ویرانہ چھوڑا تھا سانس گھٹی جاتی تھی کیسا حبس کا عالم تھا یاد ہے جس دن سبزے نے لہرانا چھوڑا تھا آنسو گرے تو خاک بدن سے خوشبو پھوٹی تھی مینہ برسا تو موسم نے گرمانا چھوڑا تھا میرے علاوہ کس

اپنے بعد حقیقت یا افسانہ چھوڑا تھا Read More »

کس ہتھیلی پہ پاپوش سینچے گئے کس کہانی کو بے نام رکھا گیا

غزل کس ہتھیلی پہ پاپوش سینچے گئے کس کہانی کو بے نام رکھا گیا زانوئے دل پہ کل شب بڑی بھیڑ تھی جس کے برتے پہ انجام رکھا گیا ہم شروع محبت سے نادار تھے اپنی آنکھوں سے ہونٹوں سے بیزار تھے ہم سے کیا پوچھتے ہو لہو کی کھنک جس کے ریشوں میں ابہام

کس ہتھیلی پہ پاپوش سینچے گئے کس کہانی کو بے نام رکھا گیا Read More »