MOJ E SUKHAN

لہو رگوں میں سنبھالا نہیں گیا مجھ سے

غزل

لہو رگوں میں سنبھالا نہیں گیا مجھ سے
کسی دشا میں اچھالا نہیں گیا مجھ سے

سڈول بانہوں میں بھرتا میں لوچ ساون کا
وہ سنگ موم میں ڈھالا نہیں گیا مجھ سے

میں خواب پڑھتا تھا ہمسائیگی کی ابجد سے
مگر وہ حسن خیالا نہیں گیا مجھ سے

وہی ہے میرے لہو میں چمک الوہی سی
سمے اجالنے والا نہیں گیا مجھ سے

فراق کہتی تھیں نیپالی ندیاں عامرؔ
مگر شکوہ ہمالہ نہیں گیا مجھ سے

عامر سہیل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم